خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 386
خطبات طاہر جلد ۱۲ 386 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء بیان ہوئی ہیں اُن کا تعلق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دور ثانی سے ہے۔یہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح عموماً سمجھا جاتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دونوں تمثیلات اوّل حضرت اقدس محمد رسول اللہ اور اُن کے ساتھیوں پر ہی چسپاں ہوتی ہیں اور آپ کے حوالے سے، آپ کے واسطے سے ، آپ کے وسیلے سے پھر آئندہ زمانہ میں آخرین میں منتقل ہوں گی۔پس اول دور میں اور دوسرے صلى الله دور میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا کہ نشو ونما کی طرز میں اور اُس وقت میں فرق پڑ جائے گا جس وقت کے اندر وہ نشو و نما مقدر ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ کے پہلے دور میں بہت تیزی سے اسلام نے پھیلنا تھا اور اس پہلو سے ایک جلالی شان تھی جس نے جلوہ گر ہونا تھا۔حضرت موسی کے دور کی طرح اس دور میں تلوار کا جواب تلوار سے دیا جانا تھا اور ایک جلال کی شان کے ساتھ بڑی تیزی کے ساتھ اس پیغام نے پھیلنا تھا اور مضبوطی کے ساتھ جڑ پکڑ جانی تھی۔دوسرے دور میں جو مسیح نے بیان فرمایا جس کا ذکر انجیل میں ملتا ہے وہ دور تو حضرت رسول اکرمﷺ ہی کا دور ہے اور آپ کی ہی شانِ احمد سے تعلق رکھتا ہے اُس دور میں وہ بنیادی صفات تبدیل نہیں ہوں گی جن کا آیت کے پہلے حصے میں ذکر ہے اگر کسی کو یہ خیال ہے تو غلط خیال ہے۔وہی بنیادی صفات ہیں جو مومن کا اور امت محمدیہ کے مومن کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زاد راہ مقرر کر دی گئی ہے۔اُس کے بغیر مومن کا سفر ممکن ہی نہیں ہے اس لئے اُن کو چھوڑ کر الگ تمثیل بیان نہیں ہوئی اُن صلى الله کے ساتھ ایک الگ تمثیل بیان ہوئی ہے۔بیان یہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وہ ساتھی جو اؤل دور میں ہیں اُن کی یہ صفات حسنہ ہیں، ان صفات کے ساتھ وہ تیزی سے نشو و نما پائیں گے لیکن یہی صفات جب دور آخر میں جلوہ گر ہوں گی تو اُن کے نمو کی طرز میں فرق پڑ چکا ہو گا اُن میں ملائمت آچکی ہو گی ان میں آہستگی ہو گی لیکن مضبوط قدموں کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ آگے قدم بڑھانے والے لوگ ہیں۔چنانچہ مسیح کی جو تمثیل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے آخری دور پر صادق آئے گی وہ یہ ہے کہ وہ اس کھیتی کی طرح ہو گی جو ان بیجوں سے اگتی ہے جو زمیندارز مین پر پھینکتا ہے، وہ کونپلیں نکالتی ہے، وہ کونپلیں مضبوط ہوتی ہیں پھر وہ ایک شاخ نہیں بلکہ ایک تنے کی طرح ڈنٹھل بناتی ہے۔وہ پھل اور موٹا ہو جاتا ہے اور اُس میں پھر جونشو و نما ہے وہ ایسی ہے کہ جودیکھنے والے دشمن کو سخت تکلیف دے گی لیکن وہ لوگ جنہوں نے اپنے ہاتھ سے بیج بوئے ہیں ان کو اس سے بہت خوشی