خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 385 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 385

خطبات طاہر جلد ۱۲ 385 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء کونپلیں نکالے۔فَازَرَہ پھر وہ کونپل مضبوط ہو جائے۔شَطْعَهُ فَازَرَہ وہ مضبوط ہو یا وہ ڈالی بن جائے، ڈنٹھل بن جائے۔فَاسْتَغْلَظ پھر وہ و شکل مضبوط ہونے لگے فَاسْتَوى عَلَى سوقہ اور اپنی شاخ پر جس پر وہ شاخ پھوٹی ہے وہ اپنی ذات میں کامیاب ہو جائے دوسروں کے سہارے کا محتاج نہ رہے۔ایسی مضبوطی پیدا ہو جائے کہ جیسے تنا ایک مضبوط درخت کا طاقتور ہو کر ہر قسم کے بوجھ اٹھا لیتا ہے اور خود بھی کسی سہارے کا محتاج نہیں رہتا۔اس طرح وہ پھوٹے اور اپنی ذات پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے۔يُعْجِبُ الزُّرَّاع وہ زمیندار جو یہ کھیتی بوتے ہیں ان کے لئے وہ لطف اور تعجب کا موجب بنے ، وہ لطف اٹھا ئیں اس کو دیکھ کر۔لِيَغِيْظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ اور جوانکار کرنے والے ہیں وہ غیظ و غضب میں مبتلا ہو جائیں۔وہ اس نشو ونما کو دیکھیں روز بروز مضبوط ہوتی ہیں، تو انا ہوتی ہیں، بڑھتی پھیلتی پھولتی پھلتی کھیتی کو دیکھتے ہیں تو اُن کو غصہ آتا ہے مگر کچھ کرنہیں سکتے کیونکہ اس کھیتی کا مقدر یہ ہے کہ اس نے بہر حال، ہر طور بڑھنا ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کن لوگوں سے وعدہ ہے الَّذِینَ آمَنُوا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وَعَمِلُوا الصَّلِحت اور نیک اعمال اختیار کرتے ہیں وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنْهُمْ وه ایمان لانے والے جو نیک اعمال بھی کرتے ہیں اُن سے وعدہ ہے۔خالی ایمان لانے والوں سے وعدہ نہیں ہے۔اُن ایمان لانے والوں سے وعدہ ہے جو نیک عمل کے ذریعے اپنے ایمان کی صداقت کا اقرار کرتے ہیں اور جب تک نیک اعمال ، ایمان کے بعد انسان میں پیدا نہ ہوں ایمان کی صداقت کا حقیقی اقرار نہیں ہوسکتا۔فرمایا مَّغْفِرَةً وَ اَجْرًا عَظِيمًا اُن سے وعدہ ہے ایک وہ وعدہ جو پہلے گزر گیا کہ وہ بہر حال بڑھیں گے۔ایک وعدہ جواب آ رہا ہے مِّغْفِرَةً وَ أَجْرًا عَظِيمًا اللہ ہی کی طرف سے اُن سے مغفرت کا سلوک ہوگا اور بہت بڑا اجر اُن کو عطا فرمایا جائے گا۔یہ وہ مثال ہے جس کی طرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارہ فرمایا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ کی وہ جماعت ہو جو آخرین میں پیدا ہو کر اؤلین سے ملائی جائے گی۔جو دو تمثیلات جن کا ذکر تورات میں اور انجیل میں ملتا ہے قرآن کریم نے اکٹھی بیان فرمائی ہیں۔یہ خیال صلى الله پیدا ہوسکتا ہے کہ پہلی تمثیل جومحمد رسول اللہ ﷺ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے وہ صفات حسنہ جو اول دور سے تعلق رکھتی ہیں شاید ان کا تعلق دور اول سے ہے اور مسیح نے جو تمثیل دی ہے اُس میں نئی صفات