خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 377

خطبات طاہر جلد ۱۲ 377 خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۹۳ء بلوایا جائے لیکن آپس میں مجرموں کے تبادلہ کا معاہدہ کوئی نہیں۔تو یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ ایک مجرم بھاگ کر ایک اور عملداری میں چلا جاتا ہے جس طرح پاکستان میں مجرم بھاگ کر آزاد علاقے میں چلے جایا کرتے ہیں پھر کوئی ان کو پکڑ کر بلو انہیں سکتا۔فرمایا : اور اس طرح پیچھا چھڑا سکتا ہے۔مثلاً اگر انگریزی عملداری میں کوئی خلاف ورزی کی ہے تو وہ فرانس یا کابل کی عملداری میں بھاگ جانے سے بچ سکتا ہے۔۔۔دیکھیں ! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانے میں بھی کیسے پتے کی بات کی ہے۔آپ کو پتا تھا کہ انگر یز اور فرانس کی آپس میں رقابت ہے اور امکان موجود ہے کہ انگریز کا مجرم اگر فرانس میں جائے گا تو فرانس اس کو واپس نہیں کرے گا اور کابل کی مثال بالکل واضح ہے۔جو بھی مجرم بھاگ کر کابل کی عملداری یا افغانستان میں چلے جایا کرتے تھے کبھی بھی انگریز ان کو واپس نہیں لے سکا۔لیکن خدا تعالیٰ کے احکام و ہدایات کی خلاف ورزی کر کے وو انسان کہاں بھاگ سکتا ہے؟ کیونکہ یہ زمین و آسمان جو نظر آتا ہے یہ تو اسی کا ہے اور کوئی اور زمین و آسمان کسی اور کا کہیں نہیں ہے۔۔۔وو 66 ( تلاش کر لو۔ڈھونڈو۔کسی اور کا بنایا ہوا زمین و آسمان کہیں تمہیں دکھائی نہیں دے گا ) جہاں تم کو پناہ مل جاوے۔اس واسطے یہ بہت ضروری امر ہے کہ انسان ہمیشہ خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی ہدایتوں کے توڑنے یا گناہ کرنے پر دلیر نہ ہو کیونکہ گناہ بہت بُری شئے ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور گناہ پر دلیری کرتا ہے تو پھر عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ اس جرات و دلیری پر خدا تعالیٰ کا غضب آتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۶۰۷) پس میں جو مضمون بیان کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ دنیا کا غضب تو سب نے دیکھا ہوا ہے جب خدا کے قوانین کو قومی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے یا بے حرمتی کا سلوک ان سے کیا جاتا ہے تو انسان ضرور قومی سزاؤں میں مبتلا ہوتا ہے۔یہ اتنی قطعی بات ہے کوئی اندھا بھی ہو تو اس کا انکار نہیں کرسکتا۔اس