خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 34

خطبات طاہر جلد ۱۲ 34 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء لئے اس کو تبلیغ کا حق قرار دے کر اس کو کسی ملک میں جائز قرار دینا خودکشی کے مترادف ہوگا۔دوسری دیکھنے والی بات یہ ہے کہ تبلیغ کے نتیجہ میں فساد کیوں ہوتا ہے اس کا کوئی اور جواب کیا ہے اس کا دوسرا جواب اور حقیقی اور اصل جواب وہ ہے جو انبیاء کے آغاز پر ان کی خون سے لکھی ہوئی تاریخ سے ہمیں ملتا ہے۔دنیا میں جتنے انبیاء آئے ہیں جتنے بڑے بڑے مذہبی رہنما اور مقدس بزرگ پیدا ہوئے ہیں انہوں نے جب بھی تبلیغ کی ہے تو فتنہ اور فساد ہوا ہے اور خون بہایا گیا ہے اور یہ بات آغاز آفرینش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے مکالمے کی صورت میں لوح محفوظ پر لکھ رکھی تھی اور قرآن کریم نے اس لوح محفوظ سے لے کر ہمارے سامنے بیان کی خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں دنیا میں ایک خلیفہ پیدا کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا اس لئے کہ وہ زمین میں خون بہائے اور فساد برپا کرے، تو فرشتوں نے بھی اپنی لاعلمیت کے نتیجہ میں یا معصومیت کے نتیجہ میں ابن آدم کو خدا کے خلیفہ کو ہی اس فساد اور اس فتنے کا ذمہ دار قرار دے دیا جو اس کی پیدائش کے بعد ظہور میں آنا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو رد فرما دیا ، غلط قرار دیا۔اس کا مطلب ہے کہ غلط تجزیہ کر بیٹھے ہیں۔پس سیاستدان کے لئے بھی ضروری ہے کہ خدا کے تجزیے کو قبول کرے اور ان کو جو فرشتے دکھائی دیتے ہیں ان کے تجزیہ کو رد کر دیں ان کو تو آج کل اپنے مولوی ہی فرشتے دکھائی دیتے ہیں اگر ان مولویوں کا تجزیہ شیطان کے تجزیے سے ملتا جلتا ہوتو وہ تجزیہ جہنم میں پھینکنے کے لائق ہے۔خدا ہی کا تجزیہ درست ہے اور اللہ کا تجزیہ ہے جو بعد میں نبوت کی تاریخ کی صورت میں ہمارے سامنے کھلا ہے اور کھلتا چلا گیا ہے۔وہ یہ ہے کہ نبیوں نے تبلیغ میں ہمیشہ محبت سے پیغام دیا ہے، عقل سے پیغام دیا ہے، انصاف کے ساتھ پیغام دیا ہے صلح کا پیغام دیا ہے اور ہدایت اور حق کی طرف جس کو وہ ہدایت اور حق سمجھتے تھے پورے خلوص کے ساتھ بلایا ہے، قوم کو مار مار کر یہ باتیں نہیں سمجھائیں بلکہ یہ صلى الله باتیں سمجھاتے رہے یہاں تک کہ قوم نے مار مار کر ان کو لہو لہان کر دیا۔حضرت اقدس محمد مصطفی می جب طائف گئے تھے تو اس وقت بھی تو ایک فتنہ پیدا ہوا تھا۔آج کے سیاسی رہنما اس ایک واقعہ کو ہی دیکھ لیں تو ان کے چودہ طبق روشن ہو جائیں تب ان کو سمجھ آئے کہ فتنہ ہوتا کیا ہے اور تبلیغ کی آزادی کا حق کس کو کہتے ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی ہے ایک غلام کو ساتھ لے کر طائف کی سنگلاخ پہاڑیوں پر گئے اور تبلیغ شروع کی تو چاروں طرف سے