خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 360
خطبات طاہر جلد ۱۲ 360 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء اگر متقیوں کی نہیں تو متقیوں کا مزاج رکھنے والی جماعت ضرور ہے۔ایسی جماعت ہے جس کی فطرت کے اندر تقویٰ کا مادہ گوندھا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عبارت پر میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔فرماتے ہیں نصیحت کرنا اور بات پہنچانا ہمارا کام ہے۔یوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔بعض اوقات جماعت کا اخلاص ، محبت اور جوش ایمان دیکھ کر خود ہمیں تعجب اور حیرت ہوتی ہے اور یہاں تک کہ دشمن بھی تعجب میں ہیں۔ہزار ہا انسان ہیں جنہوں نے محبت اور اخلاص میں تو بڑی ترقی کی ہے مگر بعض اوقات پرانی عادات یا بشریت کی کمزوری کی وجہ سے دنیا کے امور میں ایسا وافر حصہ لیتے ہیں کہ پھر دین کی طرف سے غفلت ہو جاتی ہے۔۔۔“ یہ ہے تذکرہ اس کو کہتے ہیں الہی سمجھانے کا رنگ، پیار اور محبت کے ساتھ ان کے دلوں کو پسما ئیں، ان کو مائل کریں، ان کی خوبیوں پر نظر رکھیں، ان کا اعتراف کریں اور پھر ان خوبیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیکیوں کی طرف ان کو بلائیں۔ان خوبیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کو بدیوں سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہمارا مطلب یہ ہے کہ بالکل ایسے پاک اور بے لوث ہو جاویں کہ دین کے سامنے امورِ دنیوی کی حقیقت نہ سمجھیں۔۔۔“ یہ ہے وہ آخری فیصلے کی طاقت جو ہماری تقدیر کا فیصلہ کرے گی۔اگر ہم انفرادی طور پر اور قومی طور پر یہ مزاج پیدا کر لیں کہ جب بھی دنیا کا مقابلہ دین سے ہو گا دنیا ہارے گی اور دین ضرور جیتے گا تو پھر اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت مار نہیں سکتی۔یہ زندگی کا وہ راز ہے جس کے ساتھ آپ چمٹ جائیں تو ہمیشہ کی زندگی پانے والے بن جائیں گے۔فرماتے ہیں: اور قسم قسم کی غفلتیں جو خدا سے دوری اور مہجوری کا باعث ہوتی ہیں وہ دور ہو جاویں۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہواس وقت تک حالت خطرناک