خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد ۱۲ 361 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء ہے اور قابل اطمینان نہیں کیونکہ جب تک ان باتوں کا ذرہ بھی وجود موجود ہے تو اندیشہ ہے اور ایک وبدہ لگی رہتی ہے کہ کسی وقت یہ باتیں زور پکڑ جاویں اور باعث حبط اعمال ہو جاویں۔جب تک ایک قسم کی مناسبت پیدا نہیں ہوتی تب تک حالت قابل اطمینان نہیں ہوتی۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۶۰۵) میں سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح فرمایا ہے جماعت میں تقویٰ، نیکی ، حسن کا مادہ موجود ہے۔اس وقت اگر نصیحت کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انداز اختیار کرتے ہوئے نصیحت کریں تو اُن کو بہت کچھ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔بہت سے بد کے اور دور جاتے ہوئے احمدی نوجوان یا اُن کے والدین واپس آ سکتے ہیں اور آج کل جب کہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ تمام دنیا میں خطبات نشر ہور ہے ہی۔اطلاعیں پیل رہی ہیں کہ جماعت میں پہلے سے بڑھ کر ولولہ پیدا ہو گیا ہے۔بڑے جوش اور شوق کے ساتھ بڑے بھی اور چھوٹے بھی کثرت سے آتے ہیں اور اسی ذکر پر اب میں اس بات کو ختم کرتا ہوں کیونکہ اب کثرت سے شکوے آ رہے ہیں کہ پہلے آپ ہمارے متعلق باتیں کیا کرتے تھے۔ہم کیا کرتے ہیں؟ کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا ہوتا ہے؟ بڑا مزا آیا کرتا تھا۔اب ایک دو خطبوں سے آپ نے ذکر نہیں کیا تو شکوہ دور کرنے کے لئے دو باتیں بتا دیتا ہوں ایک تو ایک شخص نے بتایا کہ شوق کا یہ حال ہے کہ بچے بھی بڑی سنجیدگی سے جمعہ کا انتظار کرتے اور اپنے پروگراموں کو اس کے مطابق ڈھالتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں نے ایک گھر میں فون کیا تو بچے سے کہا کہ کیا حال ہے؟ اس نے کہا ماں باپ تو ابھی آئے نہیں مگر کل کیونکہ جمعہ ہے اور صبح جلدی خطبہ سننا ہے۔( یہ امریکہ کی بات ہے ) اس لئے میرا چھوٹا بھائی ابھی سوچکا ہے اور میں فورا سونے جارہا ہوں۔میرے پاس زیادہ باتوں کا وقت نہیں ہے تو اب اس بچے کو پتا تھا کہ صبح جلدی اٹھنا ہے اور خطبہ سننا ہے۔یہ علامت ہے کہ خدا نے نصیحت کے لئے ان لوگوں کو ہمارے قریب کر دیا ہے۔اس وقت فائدہ اٹھا ئیں اس وقت نصیحت سے ان کو ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیں۔دوسرے جرمنی سے ایک خاتون کا خط آیا کہ میں اپنے بچے کی ایک پیاری سی ادابتاتی ہوں کہ ایک خطبہ کے موقع پر غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے