خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 346
خطبات طاہر جلد ۱۲ 346 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء جذبات کے ساتھ کی جائے اس سے طبیعت میں اکتاہٹ پیدا ہو جاتی ہے، اس سے غفلت پیدا ہو جاتی ہے، اس سے نیندسی آنے لگتی ہے اور انسان کوشش کرتا ہے کہ رسمی طور پر اس چیز سے گزر جاؤں اور پھر اپنے دلچسپ مشاغل کی طرف لوٹوں۔یہ جو انسانی کیفیت ہے یہ اس بات کی مظہر ہے اور قطعی شہادت دے رہی ہے کہ آپ نے نماز کی حفاظت نہیں کی کیونکہ آپ نماز سے غافل ہورہے ہیں اور جب آپ نماز سے غافل ہورہے ہوں تو حفاظت ہو ہی نہیں سکتی۔حفاظت کا مضمون ہمہ وقت بیداری کا مضمون ہے حفاظت کا مضمون بتاتا ہے کہ اپنی نماز میں ہمیشہ ایسا نوع پیدا کرتے چلے جائیں کہ اس میں ایک تازگی پیدا ہو، ایک لذت پیدا ہو، نماز سے ایک نیا تعارف حاصل ہو اور وہ جاگا ہوا شعور نماز کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پھر نماز آپ کی حفاظت کرتی ہے۔اجتماع کے موقع پر خواہ وہ کیسا ہی اجتماع ہو جماعت کا کہہ لیں یا ذیلی تنظیموں کا ، انسان کو ان باتوں پر غور کرنے اور ان تجارب کے نتیجہ میں کچھ مستقل فیصلے کرنے کا ایک موقع ضرور مل جاتا ہے۔میرا یہ مشورہ ہے کہ یونائیٹڈ سٹیٹس میں جو اجتماع ہو رہا ہے وہاں خصوصیت کے ساتھ اس ریزولیوشن کی ضرورت ہے، یہ عہد باندھنے کی ضرورت ہے کہ ہم روز مرہ خدا کے قریب ہونے کی کوشش کریں گے کیونکہ خدا کے قریب ہونے کی کوشش تو ہر جگہ ضروری ہے لیکن بعض جگہ یہ زندگی اور موت کا بہت زیادہ مسئلہ بن جاتی ہے۔ایسے غریب معاشرے جہاں خدا سے بد کانے اور دور ہٹانے کے سامان کم ہیں وہاں غفلت کے نتیجہ میں فوری ہلاکت واقع نہیں ہوا کرتی۔غفلت کی حالت میں آپ رہ بھی سکتے ہیں کیونکہ اتنے لٹیرے نہیں ہیں، اتنے ڈاکو نہیں ہیں اس لئے خطرات کم ہیں لیکن یونائٹیڈ سٹیٹس مغربی تہذیب کی سب سے بلند و بالا چوٹی ہے اور مغربی تہذیب میں مذہب کو نکال کر جو بدیاں پائی جاتی ہیں وہ تمام خدا سے دوری کی بدیاں ہیں۔ان بدیوں کی پہچان یہ ہے کہ انسان خدا سے جتنا دور ہو اتنا ہی مادیت میں لذت پاتا ہے اور خدا کے قرب سے گھبراتا ہے۔جتنا وہ اپنی لذت گاہوں کے قریب جاتا ہے خدا کے تصور سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور ان لذتوں کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں پھر خدا کا قرب تکلیف دینے لگتا ہے۔بعض باتیں رفتہ رفتہ ہو رہی ہوتی ہیں اور آپ کو پتا بھی نہیں لگتا کہ ہم سرکتے سرکتے کہاں جا پہنچے ہیں اور آگے ہمارا رخ کس طرف ہے۔میں نے پہلے ایک دفعہ مثال دی تھی کہ اپنے بچوں پر نظر رکھ کر دیکھیں کہ ٹیلی ویژن پر وہ پروگرام دیکھ رہے ہوں اور ان کے کان میں آواز