خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 31
خطبات طاہر جلد ۱۲ 31 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء ہندوستان پر بھی اسی طرح اس کی راج دھانی ہوگی جیسے پاکستان پر ہوگی لیکن عدل کی اطاعت تو قبول کریں اگر نہیں کریں گے تو کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔تلوار کے ذریعہ کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، تلوار کے ذریعہ اور زیادہ مسائل پیدا ہوں گے، خون بہیں گے غریبوں کے خون چوسے جائیں گے، دن بدن آپ کی اخلاقی حالتیں گرتی چلی جائیں گی ، اس لئے ایک ہی طریق ہے جس کو آپ کو لا ز ما اپنا نا پڑے گا یعنی عدل کا وہ تصور قبول کریں جو قرآن کریم نے پیش فرمایا ہے، وہ نہ مذہب کو جانتا ہے، نہ رنگ نسل کو جانتا ہے، نہ کسی جغرافیائی حدود کا آشنا ہے۔وہ انسانیت کا آشنا ہے، انسانیت کا دوست ہے پس یہ قطعی فیصلہ کرنے کے بعد جو بہت مشکل اور کڑوا فیصلہ ہے پھر بعض نتائج نکالنے ہوں گے پھر قوم کی تربیت کرنی ہوگی دونوں طرف ایک بڑی وسیع مہم چلانی ہوگی کہ قوم کے مزاج میں عدل داخل کیا جائے ان کی نفسیاتی کمزوریوں کو پکڑ کر ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔اس ضمن میں ایک بہت ہی اہم بات مذہب سے تعلق رکھنے والی ہے ان دونوں ملکوں میں مذہب کا استعمال اتنا بھیانک ہے اور اتنا نفی ہے کہ اگر سیاسی اصلاح ہو بھی جائے تو مذہب اس قوم کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔مذہب میں آج تک شاید کسی قوم میں ایسی Tragedy، اتنا بڑا المیہ نہ ہوا ہو گا جتنا اس وقت پاکستان اور ہندوستان میں کھیلا جا رہا ہے یعنی دونوں طرف ایسے مذہبی دیوانے ہیں جو مذہبی تعلیم کے دشمن ہیں اور مذہبی نظریات کے عاشق ہیں۔اتنا بڑا تضاد ہے کہ اس تضاد کے ساتھ سچائی کہیں پنپ ہی نہیں سکتی۔ہندو بھی ہندو نظریے کے عاشق ہیں لیکن ہندو اخلاقی تعلیم سے کلیاً نا آشنا ہیں اور ادھر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اخلاقی گراوٹ روز مرہ زیادہ سنگین ہوتی چلی جارہی ہے، لیکن نظریات کی حفاظت کی خاطر سب کچھ قربان کر رہے ہیں اور نظریات جو اخلاق پیدا کرنا چاہتے ہیں اس طرف کوئی توجہ نہیں ، اس لئے صرف سیاست کی اصلاح کی بات نہیں ہے۔سیاست کو مذہبی اصلاح کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی اور پہلی توجہ تو یہ کریں کہ مذہب میں دخل اندازی چھوڑ دیں۔سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ سیاست خود مذہب کو گندا کرنے میں مدد گار ثابت ہو جاتی ہے۔وہی نبض والا حال ہے، مذہبی لوگوں کی نبض پر سیاستدان ہاتھ رکھتا ہے اور ان میں جو شریف النفس لوگ ہیں ان کو نا کارہ کر کے ایک طرف پھینکتا چلا جاتا ہے، وہ جو حق گو ہیں جو ہر حال میں کلمہ حق بیان کرنے کی۔