خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 336
خطبات طاہر جلد ۱۲ 336 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء جب میری بڑے بڑے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں تو انہوں نے خود یہ تسلیم کیا اور بتایا کہ ان کے والد مخلص احمدی تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے تعلق ، سیاسی وجوہ کی بناپر مخفی رکھتے تھے اور جہاں تک ان کے عقائد کا تعلق ہے وہ نہ صرف احمدی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔بعض ایسے بزرگ ہیں جو زندہ ہیں اور بڑے بڑے سیاسی مناصب پر پہنچے ہوئے ہیں ان کا نام لینا مناسب نہیں کیونکہ ان کے والد اپنی نیکی کے باوجود شرماتے تھے تو وہ تو پھر اور بھی زیادہ خفت محسوس کریں گے اور گھبرائیں گے کہ ہمیں کیوں احمدیت کی طرف منسوب کر دیا گیا مگر پرائیویٹ مجالس میں ذکر کرنا چاہئے وہی رستہ ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔آباء کے ذکر سے خدا کے ذکر کی طرف ان کو منتقل کر دیں۔آباء کا ذکر کرتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھیں اور ذکر اللہ میں جا کر اپنی آخری منزل تک پہنچیں اور وہاں اپنے سفر کا اختتام کریں۔یہ وہ طریق ہے جس سے ہم بہت سی کھوئی ہوئی اعلیٰ اقدار کو واپس لے سکتے ہیں ، دوبارہ اختیار کر سکتے ہیں اور قوموں کی زندگی کا راز اس میں ہے اور قرآن کریم کی اس آیت نے بہت گہرا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا ہے۔جس کا قوموں کے عروج اور زوال سے بڑا گہرا تعلق ہے۔پس یوگنڈا ہو یا صوبہ سرحد کی جماعتیں ہوں یا پنجاب کی یا بنگلہ دیش کی جماعتیں ہوں یا ہندوستان وغیرہ دنیا میں اور جہاں جہاں بھی احمد یہ جماعتیں ہیں جن میں پہلی نسل کا تعلق صحابہ یا تابعین سے تھا وہ خصوصیت سے میرے پیش نظر ہیں ان کے علاوہ بھی جہاں تک میں نے نظر ڈالی ہے مثلاً افریقہ کے بعض ممالک میں ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نہ صحابی دیکھا نہ تابعی سے تربیت حاصل کی مگر اخلاص میں غیر معمولی ترقی کر گئے اور اپنے علاقے میں اخلاص اور قربانی کی عظیم الشان مثالیں قائم کر گئے ہیں جو زندہ جاوید ہوں گی اور ایسے علاقوں میں ان سے بات چلانی چاہئے۔پس تمام دنیا کی جماعتوں کو احمدی بزرگوں کی یادوں کو تازہ کرنے کی مہم چلانی چاہئے اور تمام تربیتی اجلاسوں میں ان کے ذکر خیر کو ایک لازمی حصہ بنادینا چاہئے۔سب سے زیادہ زوراس بات پر ہونا چاہئے کہ آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگ آبا ؤ اجداد کے اعلیٰ کردار اور اعلیٰ اخلاق کا علم ہو۔ان کی قربانیوں کا علم ہو اور ان کا ذکر کریں تو ان کا دل پچھلے اور ان کی محبت اللہ کی محبت میں تبدیل ہونے لگے۔جن بزرگوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے بعض ایسے ہیں بلکہ بہت سے ایسے ہیں