خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 333
خطبات طاہر جلد ۱۲ 333 خطبہ جمعہ ۳۰/اپریل ۱۹۹۳ء لیکن صوبہ سرحد میں ہر سو احمدیوں میں سے ایک دو ایسے ہیں جو چوٹی کے 66 خاندانوں میں سے ہیں۔“ پنجاب میں تو کوئی ایک دو ہو گئے جیسے نواب محمد علی خان صاحب رئیس یا ملک عمر علی صاحب ہیں مگر صوبہ سرحد میں خاندانی وجاہت اور اثر و رسوخ رکھنے والے کئی ہیں۔مثلاً صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب کے بھائی بہت بڑے خاندان میں سے ہیں ( مراد حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب سے ہے جو صاحبزادہ عبدالحمید صاحب، صاحبزادہ عبدالسلام صاحب، صاحبزادہ عبدالرشید صاحب کے اور ان کے بہنوں بھائیوں کے والد تھے اور صوبہ سرحد کا بہت ہی معزز خاندان تھا اور ان کے نیک اثرات بڑی مدت تک سارے علاقے پر قائم رہے اور اس خاندان کی عزتیں رہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ پھر کیوں اور کیا ادبار آیا کہ بظاہر بچے مخلص بھی ہیں لیکن پھر بھی وہ اثر ورسوخ باقی نہیں رہا کوئی اندرونی کمزوری ایسی ہو گئی جس کے نتیجہ میں یہ رسوخ مٹ گئے ورنہ اللہ تعالیٰ نیک اثرات کو مٹنے نہیں دیا کرتا جب تک انسان کے اندر کوئی خامیاں نہ پیدا ہو جائیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیا ہوالیکن ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے بزرگ نیک آباء کی اعلیٰ رسموں کو مضبوطی سے دوبارہ اختیار کریں اور زندہ کریں اور پھر دیکھیں کہ دنیوی اثر خود بخود غلاموں کی طرح پیچھے چلا آئے گا۔دنیاوی اثر کی خاطر نہیں کرنا بلکہ قرآنی بیان کے مطابق اُن آباء کے ذکر کو زندہ کرنا ہے جن کا ذکر قرآن زندہ فرماتا ہے وہ ذکر زندہ کرنا ہے جو ذکر الہی کی طرف لے جاتا ہے اور پھر آشَدَّ ذِكْرًا بن کر خدا کی یاد میں منتقل ہو جاتا ہے۔دنیا کے اثرات اور دنیا کے رسوخ تو پھر غلاموں اور لونڈیوں کی طرح پیچھے پیچھے چلتے ہیں انہوں نے تو آنا ہی ہے۔“ پھر فرماتے ہیں کہ وو۔۔۔اسی طرح دلاور خان صاحب ہیں، محمد اکرم صاحب ہیں، محمد اکبر صاحب ہیں، احیاء الدین صاحب ہیں ( یہاں جنرل احیاء الدین مراد ہیں ) ، محمد علی خان صاحب ہیں، ملک عادل شاہ صاحب ہیں، امیر اللہ خان صاحب ہیں، عبد الحمید صاحب والے ہیں۔گویا چند سواحمدیوں میں سے ایک درجن کے قریب ایسے احمدی ہیں جو بھاری اثر و رسوخ رکھنے والے