خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 326

خطبات طاہر جلد ۱۲ 326 خطبه جمعه ۳۰ ر اپریل ۱۹۹۳ء اس آیت کے مضمون کی طرف متوجہ کرتا ہوں، ہمیں یعنی اس صدی کے سر پر کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک نئے زمانے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ہم ایسے جوڑ پر کھڑے ہیں جہاں ایک نسل ہی نہیں بلکہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل بھی تقریباً گزر چکی ہے۔صحابہ کا زمانہ ختم ہوا اور شاذ کے طور پر برکت کے لئے دیکھنے کو ملتے ہیں اور وہ کبار تابعین جو صحابہ کے تربیت یافتہ تھے وہ بھی اکثر گزر چکے ہیں اور تابعین کا وہ گروہ باقی ہے جو چھوٹی عمر کا تھا اور ابھی اللہ کے فضل سے تابعین کا ایک طبقہ دنیا کی تمام جماعتوں میں نہیں تو بہت سی جماعتوں میں پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ان سے بڑی توقع اور امید ہے کہ انشاء اللہ وہ نیکی کی اعلیٰ روایات کو اگلی نسلوں میں جاری کریں گے۔یہ وہ خطرناک جوڑ ہے جو دو صدیوں کا بھی جوڑ ہے اور نسلاً بعد نسل تیسرا جوڑ بنتا ہے اور اس جوڑ کی اگر ہم نے حفاظت کی اور ان آیات کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اپنی آئندہ نسلوں کے نگران ہوئے تو انشاء اللہ تعالیٰ پھر ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔صلواۃ کی حفاظت کے متعلق بھی میں ذکر کر چکا ہوں۔آئندہ بھی انشاء اللہ اس مضمون پر روشنی ڈالوں گا۔شہوات کے مضمون کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ آئندہ انشاء اللہ تربیتی خطبات دوں گا۔آج محض یہ ذکر ہی کافی ہے کہ یہ دو خطرات کے نشان ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ہمارے سامنے کھول کر بیان فرما دیا ہے اور تنبیہ کردی، اب آگے ہم پر ہے کہ ہم چاہیں تو تنبیہ کو نظر انداز کر کے اپنے لئے ہلاکت کی راہ اختیار کر لیں خواہ اس تنبیہ سے فائدہ اٹھائیں اور راہ راست پر قائم رہیں۔اس ضمن میں بہت سی ایسی نصیحتیں کی جاسکتی ہیں جن کے پیش نظر جماعتیں اپنی نسلوں کی حفاظت کرتی ہیں اور سارا قرآن کریم اس مضمون سے بھرا پڑا ہے لیکن میں نے آج خصوصیت کے ساتھ ایک آیت کو چنا ہے تا کہ اس مضمون کو کچھ آگے بڑھاتے ہوئے اس آیت کی روشنی میں آپ کو نصیحت کروں کہ کیسے نئی نسلوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔قرآن کریم نے جو بہت سے ذرائع بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک ذریعہ ذکر کا ہے۔وہ لوگ جو اپنے آبا و اجداد کا ذکر زندہ رکھتے ہیں ان کے آبا و اجداد کی عظیم خوبیاں نسلاً بعد نسل قوموں میں زندہ رہتی ہیں اور لوگ جو اللہ کا ذکر زندہ رکھتے ہیں صفات الہیہ قوموں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں اور تربیت کی جان صفات الہیہ ہے۔پس اس پہلو سے اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کی ویسی ہی تربیت کرنا