خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد ۱۲ 320 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء کہ عام لوگ جو اپنے حسن خلق کے نتیجے میں یا دوسرے دنیاوی محرکات کے نتیجے میں نصیحت کیا کرتے ہیں اُن کی نصیحت اگر اثر نہ دکھائے تو وہ اُس بات کو چھوڑ دیتے ہیں یا غصہ دکھا دیں گے۔اگر دل میں نرمی ہوگی تو تھوڑا سا محسوس کر کے پھر کہتے ہیں اچھا پھر اُس کی مرضی جو چاہے کرے۔جس قسم کی نصیحت کی میں جماعت احمدیہ سے توقع رکھتا ہوں وہ وہ نصیحت ہے جو قرآن نے ہمیں سکھائی ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔اُس میں ہتھیار ڈالنے کا کہیں کوئی مضمون دکھائی نہیں دیتا۔یہ تو فرمایا ہے کہ اگر کوئی نہیں مانتا تو تیرا قصور نہیں ہے تو داروغہ نہیں بنایا گیا۔لیکن یہ نہیں فرمایا گیا کہ نصیحت بند کر دے۔فَذَكَّر میں جو تشدید ہے یہ اس مضمون میں ایک قسم کی شدت بھی پیدا کر دیتی ہے اور دوام بھی کہ تو نصیحت کر اور کرتا چلا جا اور یہ یقین رکھ کہ بالآخر یہ نصیحت فائدہ دے دے گی۔ایسی صورت میں کیا مزید کارروائی کرنی چاہئے۔یہ دوسری آیت جس کا میں اس وقت ذکر کر رہا ہوں۔اس کا اس مضمون سے تعلق ہے۔مزید کارروائی یہ ہے کہ وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة نصیحت کر کے یہ نہ سمجھا کرو کہ فرض ادا ہو گیا۔تم فارغ ہو بیٹھے ہو۔اس کے بعد صبر کے ساتھ اس بات پر قائم رہو اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو اور ساتھ عبادت کرتے رہو تب تمہاری نصیحتوں کا ضرور فائدہ ہوگا۔یہ آج کل کے حالات میں سمجھانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ خدا کے فضل کے ساتھ تبلیغ میں بہت ہی غیر معمولی تیزی پیدا ہو رہی ہے۔بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں پہلے سینکڑوں نئے احمدی ہوتے تھے اب ہزار ہا ہونے لگے ہیں۔جہاں صرف ایک دو ممالک کی بات نہیں رہی کئی ممالک ہیں جواب ان ملکوں کی فہرست میں داخل ہو گئے ہیں جہاں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا (النصر :۳) کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔وہ لوگ جو فوج در فوج احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں اُن کی بھاری ذمہ داری ہم پر ہے۔ہمیں ایک مضبوط نصیحت کرنے والا نظام قائم کرنا پڑے گا۔اگر ہم ایسا نظام قائم نہ کریں گے تو ان لوگوں سے ہماری غفلت کے نتیجے میں یہ لوگ خود اپنے حال سے غافل ہو جائیں گے۔ایسی جماعتیں بنتی ہیں اور فائدہ اٹھائے بغیر پھر خود بخو دیگڑ بھی جاتی ہیں۔صرف تعداد کی ضرورت نہیں ہے تعداد کو لینا اور اُس کو سمیٹنا ، اُس کو نظام انہضام میں سے اس طرح گزارنا کہ مری ہوئی چیز میں زندگی پیدا ہو جائے۔جس طرح کھانا کھایا جاتا ہے ، وہ زندہ چیز بھی کھائیں گے تو