خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 321
خطبات طاہر جلد ۱۲ 321 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء معدے میں جا کے مر ہی جائے گی بہر حال۔موت کے بعد ایک نئی زندگی پیدا ہوتی ہے نظام انہضام سے یعنی ہضم کرنے کا جو نظام ہے۔وہ ایک مردہ حالت کو ایک زندہ حالت میں تبدیل کرتا ہے اور جب وہ زندگی کا جز بننے کے لائق ہو جاتی ہے تب آپ کے وجود کا حصہ بنتی ہے۔پس بہت سے کام ہیں جو تبلیغ کی کامیابی کے بعد باقی رہتے ہیں۔تبلیغ میں تو زیادہ سے زیادہ یہ کیا کہ آپ کے لئے ہزار ہا افراد مہیا کر دیئے جو اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں کہ ہمارے اوپر جو کارروائی کرنی ہے وہ کر لو۔ہم حاضر ہیں۔سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا (البقرہ: ۲۸۶) کی روح دکھا رہے ہیں۔اُس کے بعد اُن کو اُس حالت میں چھوڑ دینا بہت ہی بڑی جہالت ہوگی۔وہاں اُن کو اٹھانا ہے، اُن کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔نظام جماعت کے اندر ان کو سمودینا ہے،اُس کا حصہ بنا دینا ہے۔رفتہ رفتہ ایک مردہ وجود کو زندگی عطا کرنی ہے۔بے شمار کام وہاں سے شروع ہوتے ہیں وہاں کام ختم تو نہیں ہو جایا کرتے۔پس خصوصیت سے افریقہ کے وہ ممالک میرے پیش نظر ہیں جہاں کثرت کے ساتھ بیعتیں ہو رہی ہیں۔آئندہ بڑھنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ اسی طرح کی تربیتی کلاس جس طرح خدام الاحمدیہ پاکستان میں لگائی گئی ہے ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد لگانی شروع کرے مختلف تنظیموں کے ذریعے لگا ئیں ، جہاں بیعتیں ہوتی ہیں وہاں بار بار کیمپ کھولے جائیں اور مختلف تربیتی مضامین لے کر اُن پر کام کریں اُن کی تربیت پر محنت کریں۔آغاز میں جب ایک انسان نیا کسی دین کو یا مسلک کو قبول کرتا ہے تو وہ زیادہ اس بات کے لئے تیار ہوتا ہے کہ اس کے اندر تبدیلیاں پیدا ہوں۔اگر اُسی حالت پر ٹھنڈا ہو گیا تو پھر بعض دفعہ سینکڑوں گنا محنت بھی بریکار جاتی ہے۔پس نئے آنے والوں کے لئے ساری دنیا میں اس قسم کی تربیتی کلاسیں لگائیں اور مرکزی نقطہ اُن کلاسوں کا یہی ہو جو میں نے بیان کیا ہے۔نماز پر قائم کریں۔نماز کی حفاظت کا مضمون سکھائیں اور رحمت اور محبت اور صبر کے ساتھ دوسروں کو نصیحت کرنے کا سلیقہ عطا کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے۔اگر ان دو بنیادی کاموں کا ہم حق ادا کریں تو انشاء اللہ تعالی آئندہ جماعت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا بلکہ دن بہ دن جماعت کا مستقبل اور زیادہ سنور تا اور نکھرتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)