خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد ۱۲ 28 28 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے۔سیاست میں گرتی ہوئی اخلاقی حالت دنیا کے لئے اس وقت سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے اور تیسری دنیا کا سیاستدان تو اخلاقی لحاظ سے تقریباً دیوالیہ ہو چکا ہے۔ان کے ہاں تین ہی مقاصد ہیں اس کے سوا معلوم ہوتا ہے سیاست میں حصہ لینے کا اور کوئی مقصد ان کو دکھائی ہی نہیں دیتا ، اول طاقت حاصل کرنا، دوسرا طاقت سے چمٹے رہنا، طاقت ایک دفعہ حاصل ہو جائے تو جو کچھ ہو جائے اس کو چھوڑنا نہیں، تیسرا یہ کہ طاقت حاصل کر کے تمام قومی اور ملی مفادات کو ذاتی خاندانی اور جتھے کے مفادات میں تبدیل کرنا۔یہ تین باتیں ہیں جو اس وقت تیسری دنیا کی سیاست کا خلاصہ بن گئی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ساری قوم اتنا مصیبتوں میں مبتلا ہوتی ہے اور اس طرح ظلم کی چکی میں پیسی جاتی ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ہو کیا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہی تین باتیں ہیں جو ہر برائی کی ذمہ دار بن چکی ہیں۔سیاستدانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تم عقل اور شعور سے کام لو قوم کے دور کے مفادات کی بات سوچو ورنہ تم لوگ سارے پیسے جاؤ گے تمہاری داستانیں مٹ جائیں گی۔یہ وہ دور ہے جبکہ تیسری دنیا کے سیاستدان کو باشعور ہو کر عالمی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے حوالے سے اپنی سیاست کو درست خطوط پر چلانا ہوگا۔اب میں ہندوستان اور پاکستان کے سیاستدانوں کی مثال دیتا ہوں یہ دونوں سیاستدان ایک لمبے عرصہ سے عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور جو باتیں نفرتیں پیدا کرتی اور ہیجان پیدا کرتی ہیں ان کو استعمال کرتے ہیں یہاں تک کہ دن بدن عوامی مزاج مشتعل ہوتا چلا جارہا ہے اور ہیجان پکڑتا چلا جارہا ہے اور سیاستدان سوچتا ہی نہیں کہ اس کے نتیجے میں کیا نقصانات ہوں گے ایک وقت آتا ہے کہ پھر یہ دونوں ملک جنگوں میں مبتلا ہوتے ہیں جیسا کہ کئی دفعہ ہوئے اور ہر جنگ کا نقصان غریب کو پہنچتا ہے اور ایک مستقل نقصان ہے جو غریب کے سر پر سوار ہے، اس کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے لیکن اس کے منہ میں مونگ کا دانہ نہیں پڑتا اور وہ یہ ہے کہ انتہائی غریب ہونے کے با وجود یعنی امیر ملکوں کے مقابل پر دیکھیں تو پاکستان اور ہندوستان انتہائی غریب ہیں اس کے باوجود ان کے ڈیفنس پر یعنی دفاع پر اخراجات امیر ملکوں سے دسیوں گنا زیادہ ہیں ساری قومی دولت کا ساٹھ ساٹھ فیصد دفاع پر خرچ ہو رہا ہے اور جتنا ہندوستان میں ہو رہا ہے ویسا ہی پاکستان میں ہو رہا ہے ایک دوسرے سے اس بات پر مقابلے ہوتے ہیں کہ دفاعی ضروریات سب سے اہم ہیں اور اس نعرے کی