خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 311

خطبات طاہر جلد ۱۲ 311 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء کی مدد کے لئے جو دنیا میں چیزیں ایجاد ہوئی ہیں اُن سے میں کیسے روک سکتا ہوں۔بڑی جہالت کی بات ہے کہ کہیں کوئی انٹینا سے کوئی بُری گندی باتیں نہ دیکھ لے اس لئے ڈش انٹینا بند کر دیا جائے تا کہ اچھی باتیں بھی کوئی نہ سن سکے اور وہیں آخرتان ٹوٹے گی کہ پھر آنکھیں بھی بند کر والو، کان بھی سلوالو، زبان بھی کاٹ لو کیونکہ ان تینوں ذرائع سے بدی تم تک پہنچ سکتی ہے۔اپنی حفاظت کرو۔حفِظُوا عَلَى الصَّلوات میں جو پیغام ہے۔اگر نماز کی حفاظت کرو گے تو ان سب امور میں تمہاری حفاظت کرے گی۔اب صبح کی نماز کا میں ذکر کر رہا تھا اگر ایسا معاشرہ جہاں عادت ہے صبح کی نماز کھا جانے کی وہ اگر حفاظت کا مضمون سمجھ کر نماز کی تیاری ذہنی طور پر کریں گے اور پھر منصوبہ بنائیں گے تاکہ پھر کسی طرح صبح کی نماز ضائع نہ ہو۔اُن کو مجلس میں بیٹھ کر ایک فکر لاحق رہے گی۔گھبراہٹ ہوگی کہ زیادہ دیر ہو گئی ہے کہیں میری آنکھ ہی نہ کھلے۔پھر وہ کئی دوسرے ذرائع اختیار کریں گے کہ جس سے اُن کو اٹھنے میں مددل جائے۔بعض لوگ کسی دوست کو کہہ دیتے ہیں کہ فون کر دینا۔الا رم مضبوط لگا دیتے ہیں اور نماز کا اگر خیال رہے تو مجلس میں لگی وہ بے چینی ان کے لئے ثواب کا موجب بنے گی۔ایک نیکی کا خیال اُن کو پشیمان رکھے گا، اُن کی لذت میں ایک چھوٹی سی پھانس پھنسی رہے گی کہ خدا کی خاطر مجھے ایک کام کرنا ہے اور میری یہ مجلس اُس راہ میں اب حائل ہورہی ہے۔تو نماز کی حفاظت سب سے بڑی اور اہم نصیحت ہے جو میں آپ کو کر سکتا ہوں۔مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان ہو یا تمام دنیا کی مجالس خدام الاحمدیہ ہوں، مجالس انصار اللہ ہوں، لجنہ اماء اللہ ہوں یا جماعت کا نظام ، وہ سارے اس وقت میرے مخاطب ہیں اور اس تربیتی کلاس کو سامنے رکھ کر اس سے استفادہ کرتے ہوئے میں سب کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ سب سے زیادہ زور نمازوں کی حفاظت پر دیں ، سب تنظیمیں اپنے اپنے ہاں نگران ہوں اور بیدار ہوں۔حفظوا میں ایک اور پیغام بھی ہے یہ اجتماعی حکم ہے اور حفظوا کا مطلب ہے ایک دوسرے کی بھی حفاظت کر و صرف اپنی نماز کی حفاظت نہ کرو اور اپنی نماز سے حفاظت طلب نہ کرو بلکہ بحیثیت جماعت تم ایک دوسرے کی نماز کے معاملے میں حفاظت کرو۔یہ وہ مضمون ہے جس کا ست تعلق تنظیموں کے ساتھ بھی ہے اور انفرادی طور پر بھی ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ اپنے