خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد ۱۲ 310 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء اُن میں بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا بھی ذکر چلتا ہے لیکن انہی مجالس میں کچھ چغلیاں بھی ہوتی ہیں، احتیاط سے نظر ڈالی جاتی ہے کون ہے اور کون نہیں ، جو ہے وہ کسی ایسے رشتے دار کا تو نہیں کہ جس کے خلاف باتیں کرنی ہیں۔پھر پوری تسلی کے بعد پھر وہ دل کھول کر چغلیوں کے مزے لوٹے جاتے ہیں تو اُن کا یہ سویٹ ڈش بن جاتا ہے کہ رات کو بیٹھے مجلس لگائی۔اب مجلس مجلس میں بھی فرق ہے۔وہ مجلس جس میں ذکر الہی ہو یا اور ایمان افروز باتیں ہوں یا محبت بڑھانے کے تذکرے ہوں یا معاشرے کی خرابیوں کو ایسے رنگ میں دور کرنے کی باتیں ہوں جن میں تکبر نخوت، بیہودہ تنقید نہ ہو بلکہ سچے دل کا جذبہ شامل ہو تو یہ مجلس نا پسندیدہ مجلس نہیں ہے۔یہ تو وہ مجمع ہے جس کا استثنیٰ قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ہاں رات کی ایسی مجالس جن میں تم نیکی کی مشورے کرتے ہو اور ایک دوسرے کو اچھی باتوں کی تلقین کرتے ہو وہ اچھی چیزیں ہیں وہ خدا کی ناپسندیدگی سے مستثنیٰ ہیں۔تو ہر چیز کی اپنی ایک حالت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ یہ چیز اچھی ہے یا بُری محض ایک چیز کو اچھابُرا کہنا ایک قسم کی زیادتی اور جبر ہوگا۔ٹیلی ویژن ہے دیکھ لیں اُس سے استفادے بھی ہوتے ہیں اور اُس سے بُرائیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔اب جب یہ ٹیلی ویژن کے ذریعے ساری دنیا میں خدا کے فضل سے خطبات پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔پاکستان سے بعض لوگوں نے مجھے خط لکھا کہ ہم بہت پریشان ہو گئے ہیں۔جگہ جگہ انٹینا لگ رہا ہے۔اب اس انٹینا کے ذریعہ باہر کی گندی فلمیں بھی دیکھی جائیں گی اور فلاں بھی ہو گا اور فلاں بھی ہو گا۔استعمال تو اپنے اختیار میں ہے۔اُسے تو روکا نہیں جا سکتا۔مگر وہ صاحب کبھی یہ بات بھی کر سکتے ہیں کہ آنکھیں نکال دیں کہ کہیں میری بُری چیزوں پر میری نظر نہ پڑ جائے یا کانوں پر مہر لگالیں کہ بد باتیں نہ سن سکوں یا زبان کٹوا بیٹھیں کہ میں گندی باتیں نہ کروں کہیں، کسی کو گالیاں نہ دے بیٹھوں۔وہ جو چین کا فرضی فلسفہ ہے اُس میں ایک تصویر بندے کی دکھائی جاتی ہے جس کی زبان بھی نہیں ہے ، آنکھوں پہ دونوں ہاتھ پڑے ہوئے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ہیں۔یہ بات بتانے کے لئے کہ تین ذرائع ہیں اگر ان سے تم بچ جاؤ تو بدی انہی رستوں سے داخل ہوتی ہے، انہی ذریعوں سے تم تک پہنچتی ہے۔یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ان چیزوں کو بند کر کے بیٹھ جائیں اس لئے خدا تعالیٰ نے جب شعور عطا فرمایا ہے اور حواس خمسہ بخشے ہیں کہ ان کا صحیح استعمال ہو تو ان حواس خمسہ