خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 309

خطبات طاہر جلد ۱۲ 309 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء سکتا ہو، ایسا رزق جو توانائی دے سکتا ہواُسے اُس مقام تک پہنچانے میں بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اور کچھ نہ کچھ بیچ میں اس کا مزا اللہ تعالیٰ جسکے کے طور پر دلاتا بھی رہتا ہے۔پس نماز کی حفاظت ان معنی میں کریں جن معنوں میں قرآن کریم کی آیت ہم سے تقاضا کرتی ہے۔مختلف حالات میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔الصَّلوةِ الْوُسطی کے معنی بدل جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ احمدی معاشرے میں وہ معاشرے کا حصہ جو امیر ہے ، دولت مند ہے، سہولت رکھتا ہے اُن میں بہت سے مخلص بھی ہیں ، نمازیں پوری پڑھتے ہیں اور چندوں میں نماز کی قربانیوں میں بھی آگے ، اطاعت کا رنگ بھی رکھتے ہیں۔لیکن اُن کو یہ وہم ہے کہ صبح کی نماز سے وہ متقی ہیں یعنی وقت پر نماز پڑھنے سے مستفی ہیں اور بعض خاندانوں میں مسلسل یہ رواج چلے آرہے ہیں۔ساری رات بیٹھ کے گئیں ماریں گے، مجلسیں لگائیں گے، شادی ہوگی تو بیاہ شادی کے گانے گائے جائیں گے، ڈھولکیاں بجیں گی اور پھر سوتے ہیں اب تو نہیں یہ ہمارا فرض کہ ہم اٹھیں اور اب جس وقت آنکھ کھلے گی اُس وقت ہی نماز پڑھیں گے۔یہ بالکل نفس سے جھوٹا بہانہ کر کے اجازت حاصل کرنے والی بات ہے اور نفس کو تو اختیار ہی کوئی نہیں کہ اجازت دے۔اگر جاگنا ہے تو اتنا جاگو کہ پھر اُسی جاگنے کی حالت میں تہجد کی نماز پڑھو اور صبح کی نماز وقت پر پڑھو اور پھر سوؤ اور اگر نماز پڑھنی ہے اور ساری رات جاگ نہیں سکتے تو پھر وقت پر سوؤ۔آنحضرت ﷺ تبھی عشاء کی نماز کے بعد عام طور پر مجالس لگانے کی عادت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔یہی پسند کرتے تھے کہ عشاء کی نماز کے بعد جب انسان نوافل وغیرہ کے بعد فارغ ہو جاتا ہے تو پھر علیحدگی اختیار کرے اور عبادت کرے یا سو جائے لیکن مجالس میں نہ بیٹھے لیکن یہ جو مجالس کا چسکا ہے۔جماعت احمدیہ میں خصوصیت سے ایک خاص رنگ پکڑ چکا ہے اور اس کے اندر صرف برائی نہیں خوبی بھی ہے۔بات یہ ہے کہ آج کل معاشرہ اتنا گندہ ہو رہا ہے تیزی کے ساتھ کہ رات کو کھانے کے بعد بد ارادوں سے عیش و عشرت کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔کہیں وہ سینما جار ہے ہیں ، کہیں شراب خانوں میں جا رہے ہیں، کہیں اور لذت کی تلاش میں مختلف ناپسندیدہ محافل میں شریک ہو جاتے ہیں۔احمدیوں کے لئے جو ذہنی لذت اور عیاشی کا سامان ہے وہ بس یہی ہے کہ کھانے کے بعد کسی کے گھر مجلس لگ جائے ، آپس میں بیٹھے باتیں کریں جو زیادہ نیک مجالس ہیں،