خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 308
خطبات طاہر جلد ۱۲ 308 خطبه جمعه ۱/۲۳اپریل ۱۹۹۳ء انسانی صلاحیتیں بار بار اُس توجہ میں پیش ہو کر اپنے نقائص سے آگاہ نہ ہوتی رہیں اور اُن نقائص کو دور کرنے میں نماز سے مددنہ ملتی رہے تو ساری زندگی انسان کی غفلت میں کٹ جائے گی اور اُس کی کبھی اصلاح نہیں ہوسکتی۔نماز اس طرح اصلاح کرتی ہے کہ جب آپ توجہ سے نماز پڑھتے ہیں تو آپ کا وجود مختلف صورتوں میں آپ کے سامنے پیش ہوتا ہے اور نماز کی دعاؤں میں کبھی کوئی نفس آپ کے سامنے آ رہا ہے اور کبھی دوسر انفس آپ کے سامنے آ رہا ہے۔کبھی کوئی ایک غفلت جاگ اُٹھتی ہے اور آپ کو متوجہ کرتی ہے، کبھی دوسری غفلت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔تو نماز آپ کو بیدار کرتی اور جگاتی ہے اس طرح حفاظت کرتی ہے۔ایک حفاظت کا تعلق بیدار کرنے سے ہے اور حفاظت کا جو لفظ ہے یہ اتنے وسیع معنی میں یہاں چسپاں ہوتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اب آپ نے بار ہا سنا ہوگا پہرے کے پھیرے ڈالنے والوں کو جاگتے رہو، جاگتے رہو حالانکہ اُس نے خود جا گنا ہے لیکن وہ آواز دیتا ہے سب کو کہ جاگتے رہو۔مراد یہ ہے کہ غافل نہ ہونا۔یہ مراد تو نہیں ہے کہ میری جگہ تم اٹھو اور پہرے کے پھیرے لگاؤ۔مراد یہ ہے کہ پہرہ اپنی جگہ لیکن جب تک ایک انسان خود بیدار مغز نہ ہو، ہوشیاری کے ساتھ اپنے اموال کی حفاظت کرنا نہ جانتا ہو بیرونی پہرے اُس کی حفاظت نہیں کر سکتے۔تو نماز ہے جو اندر سے آپ کو جگاتی ہے اور بیدار کرتی ہے اور واقعہ ایسا کرتی ہے۔وہ شخص جو کوشش کر کے نماز کو زندہ کرتا ہے یا زندہ کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے وہ جانتا ہے کہ بڑا مشکل کام ہے لیکن یہ کوشش رائیگاں کبھی نہیں جاتی۔ضرور فائدہ بخش دیتی ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب لکھا نماز کی لذتوں کا ذکر فرمایا یا حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے حالات پڑھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں ایسی لذت تھی کہ دنیا جہان سے کلیۂ کھو جاتے تھے۔ہمیں تو ایسا مزا نہیں آتا، ہمیں کیا فائدہ ایسی نماز پڑھنے کا۔وہ نمازیں جو مزا دیتی تھیں کمائی جاتی ہیں، پہلے دن نہیں بن جایا کرتیں۔وہ زمیندار جو کھیت میں محنت کرتا ہے اور فصل کی حفاظت کرتے ہوئے ، پروان چڑھاتا ہے۔اُس میں جب پھل لگ بھی جاتا ہے تب بھی مزے کے قابل نہیں ہوا ہوتا۔اپنی نمازوں کو پھل دار بنانا ہی مقصود نہیں ایسے وقت تک پھل دار بناتے جانا ہے جب پھل میں مٹھاس پیدا ہو جائے ، جب اُس میں لذت پیدا ہو جائے ، جب اُس میں رزق کی توانائی آجائے ، وہ توانائی دے