خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد ۱۲ 307 خطبه جمعه ۲۳ ر ا پریل ۱۹۹۳ء اجازت چلتی رہی اسی طرح۔جب زمیندار نے دیکھا کہ ایک کونے سے گنے ختم ہورہے ہیں تو گھات میں بیٹھ گیا۔سردیوں کا زمانہ تھا۔گنے عموماً تیار ہوتے ہیں دسمبر یا جنوری فروری میں اُس نے مولوی صاحب کو اُسی حال میں پکڑ لیا۔ٹھنڈے پانی کی نہر ساتھ بہہ رہی تھی۔مولوی صاحب کو پکڑ کے وہاں لے گیا۔اُس نے نہر سے پوچھا، نہر کو مخاطب کر کے، مجھے شعر تو اُس کا یاد نہیں کیا بنایا تھا ؟ لیکن مضمون یہی تھا کہ اوہ ٹھنڈے پانی کی نہر میں عاجز غلام تجھ سے اجازت چاہتا ہوں۔مولوی صاحب کو دو غوطے دوں کہ چار تو نہر کہتی تھی کہ پانچ سات دے دو کوئی فرق نہیں پڑتا۔تو اللہ تعالیٰ سے تو وہ کام نہ کریں جو ہمیشہ جاگتا ہے۔ملاں نے تو اتفاق سے پکڑا تھا۔غلط اجازت کی اطلاع ملاں کو محض اتفاق ہوئی ہے مگر آپ جو ہمیشہ اپنے نفس سے غلط اجازتیں لیتے ہیں۔جب نفس مجاز ہی نہیں ہے تو خدا تو ہر آن دیکھ رہا ہے اور خصوصاً نماز کے معاملے میں بے پرواہی کرنا جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔كِتبًا مَّوْقُوتًا ( النساء:۱۰۴) ایک مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے۔ایک بہت بڑی غفلت ہے اور اس کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ نے الصَّلوةِ الْوُسطی کی حفاظت نہ کی تو جب آپ کو مشکل پیش آئے گی، آپ کو مصیبتیں گھیریں گی اور آپ کے لئے مددطلب کرنے کے لئے ایک وسطی وقت پیدا ہو جائے گا۔ایک اہم وقت آئے گا کہ جب آپ کو مدد کی ضرورت ہوگی اُس وقت آپ مرکزی نماز کی حفاظت سے عاری ہوں گے یعنی مرکزی نماز کی حفاظت نہ کرنے کے نتیجہ میں اللہ کی تقدیر آپ سے ہاتھ اٹھا لے گی کہ اس کو تو ہم نے سمجھا دیا تھا کہ تم مصیبت کے وقت میں بچنے کے لئے یہ کام کرنا اور اگر فائدہ نہیں اٹھایا۔تو انسان خود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اپنے آپ کو محروم کر دیتا ہے۔اگر واضح نصائح کو سن کر سمجھ کر پھر ان سے غفلت برتتا ہے۔تو نماز کے متعلق جتنا بھی زور دیا جائے وہ کم ہے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اتنی مرکزی نصیحت ہے کہ اگر ہر خطبے میں بھی نماز پر کچھ کہا جائے تو ہرگز یہ بے وجہ تکرار نہ ہو گی۔اس میں ہماری زندگی ، ہماری جان ہے۔عبادت ہی میں تمام انسانی صلاحیتوں کا نچوڑ ہے۔تمام انسانی صلاحیتیں عبادت میں اکٹھی ہو کر ایک نقطے پر مرکوز ہوتی ہیں اور اُس سے نئی جلا پاتی ہیں اور یہ جو میں بات کر رہا ہوں بڑی لمبی تفصیل چاہتی ہے مگر میں مختصر آپ کو سمجھا رہا ہوں۔میں نے ساری زندگی کے تجربے سے دیکھا ہے کہ جب تک نماز میں توجہ کے وقت