خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 304
خطبات طاہر جلد ۱۲ 304 خطبه جمعه ۱/۲۳اپریل ۱۹۹۳ء عبادت کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔یہاں حفظوا کا لفظ محض عام حفاظت نہیں بلکہ جس باب میں اس کو استعمال کیا گیا ہے اُس سے اس میں اور بھی بہت سے معنی پیدا ہو گئے ہیں۔حفظ یحفظ عام عربی میں استعمال ہونے والا لفظ ہے۔واحفظوا کہا جائے تو مطلب ہے کہ حفاظت کرو لیکن حفظوا جب کہا جائے تو کچھ اور معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ویسے بھی لفظ حفاظت میں حفاظت ہی کے معنی نہیں بلکہ عربی استعمال کے رو سے ثابت ہے کہ حفاظت سے مراد دوام بھی ہے،مستقل مزاجی سے کسی چیز پر قائم ہو جانا بھی ہے یعنی اس Institution کی حفاظت کرو اور اس کو ہر قسم کے خطرات سے بچاتے رہو۔مستقل نگرانی کا کام بھی حفاظت کے لفظ میں داخل ہے۔حفظوا کا مطلب ہے ایک پارٹی ہی نہیں بلکہ اس کے مقابل پر ایک اور پارٹی بھی ہے۔ایک طرف سے ایک شخص یا ایک گروہ ایک کام کرتا ہے۔مد مقابل بھی اُسی طرح کا کام اس کے سامنے کرتا ہے۔پس جب کسی کو قتل کرنا بتا نا ہو تو قتل کے لفظ سے بتایا جاتا ہے۔اس نے قتل کر دیا۔مگر جب لڑائی کا مضمون بتانا ہو تو قاتل کہتے ہیں۔اُس نے فلاں شخص سے قتال کیا ہے یعنی اس میں ایک مد مقابل کا پایا جانا ضروری ہے۔پس حفظوا سے کیا مراد ہے؟ حضرت مسیح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مضمون پر بہت پاکیزہ روشنی ڈالی۔جب آپ نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ اگر تم نماز کی حفاظت کرو گے تو نماز اُس کے مقابل پر تمہاری حفاظت کرے گی۔پس یہاں مد مقابل خود نماز ہے اور اس مضمون پر روشنی پڑتی ہے ایک اور آیت سے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت: ۴۲) پس اگر تم نماز سے کوئی مدد چاہتے ہو تو نماز کی حفاظت کرو۔یہ بہت ہی پیارا اور گہرا اور وسیع مضمون ہے۔نماز کی صفات قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں وہ تمام صفات تمہاری تائید میں اٹھ کھڑی ہوں گی اور تمہاری حفاظت کریں گی اور تمہیں گھیر لیں گی اور دائماً تمہارے ساتھ رہیں گی کیونکہ وہ بے وفائی نہیں کریں گی اور تمہاری نگرانی رکھیں گی۔یہ سارے مضامین اس وقت حفظوا میں شامل ہو گئے ہیں۔پس تربیتی کلاس کی بات ہورہی ہے۔میرے نزدیک ہر تربیتی موقع پر سب سے اہم نصیحت نماز کی حفاظت کی نصیحت ہے اور جیسا کہ فرمایا گیا حفظوا اس سے حفاظت میں مقابلہ کرو۔تم اس کی