خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد ۱۲ 305 خطبه جمعه ۲۳ /اپریل ۱۹۹۳ء حفاظت کرو یہ تمہاری حفاظت کرتی رہے اور اس طرح ایک دوسرے سے طاقت پکڑو۔پس حفاظت کا سارا مضمون محض نماز کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ انسان کی ضرورت کی جتنی حفاظت کی چیزیں ہیں وہ ساری اس میں داخل ہو جاتی ہیں۔آپ نماز کی حفاظت کریں گے تو نماز آپ کی حفاظت کرے گی اور یہ حفاظت کا لفظ نماز کے تعلق میں عام ہے۔نہ صرف ہر بدی سے حفاظت کرے گی بلکہ ہر خطرے کے موقع سے حفاظت کرے گی۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے فرمایا کہ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ (البقرہ: ۴۶ ) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہو تو صبر کے ساتھ اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد مانگو۔خالی صبر کافی نہیں ہے۔صلوۃ صبر کو طاقت بخشتی ہے اور صلوٰۃ حفاظت کے وہ سارے تقاضے پورے کرتی ہے جو اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔پس بہت ہی گہرا اور وسیع مضمون ہو جاتا ہے ب حفظوا کے باب پر غور کرتے ہوئے آپ حفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ کے مضمون پر غور کرتے ہیں۔پس دنیا میں ہر انسان کو ہر قسم کے خطرات لاحق ہوتے ہیں، مشکلات پڑتی ہیں، مصیبتیں نازل ہوتی ہیں، آپس میں خاندانوں میں جھگڑے پڑ جاتے ہیں، بھائی بھائی کے، بہن بھائی کے، عزیزوں کے ساتھ ہر ایسے معاملے میں جہاں انسان کو کسی قسم کی حفاظت کی ضرورت ہے اگر وہ نماز پر قائم ہو جاتا ہے اور حفظوا کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے نماز کی حفاظت پر مستعد رہتا ہے، ہمیشہ کوشاں رہتا ہے کہ اس کی حفاظت کرے تو اس کے لئے بڑی خوشخبری ہے ہر مشکل کے وقت نماز اُس کی حفاظت کے لئے کھڑی ہو جائے گی۔وہ خدا تعالیٰ سے خود منتجی ہوگی کہ اس تیرے عاجز بندے نے تیری نصیحت پر عمل کرتے ہوئے میری حفاظت کی تھی۔اب یہ حفاظت کا محتاج ہوا جاتا ہے۔تو اس پر رحم فرما اور اپنا وعدہ پورا کر اور مجھ سے وفا کے نتیجے میں تو اس کے ساتھ رحم اور شفقت کا سلوک فرما۔پس نماز کے ساتھ جو تعلق ہے خود اپنی ساری زندگی کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے۔اس کا اگلا حصہ ہے وَالصَّلوةِ الْوُسطی اور خبر دار مرکزی حیثیت کی نماز سے غافل نہ ہونا۔مرکزی حیثیت کی نماز سے مختلف مفسرین نے مختلف معنی سمجھے ہیں۔بعض کہتے ہیں صبح کی نماز کو پہلی نماز شمار کیا جائے اور عشاء کو آخری ، تو عصر کی نماز مرکزی نماز بنتی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یہاں