خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 298
خطبات طاہر جلد ۱۲ 298 خطبه جمعه ۶ اراپریل ۱۹۹۳ء ہیں لیکن ان میں سے ایک بات میں اس سلسلہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آنحضرت ہو نے ایک دفعہ فرمایا کہ دیکھو اپنے ماں باپ کو گالیاں نہ دیا کرو۔بہت ہی گندی ، بہت ہی مکر وہ بات ہے کہ تم اپنے ماں باپ کو گالیاں دو۔صحابہ میں سے کسی نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اپنے ماں باپ کو کون گالیاں دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب تم اپنے رشتوں کے بعد ایک دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہو تو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے رہے ہو۔( بخاری کتاب الادب حدیث نمبر :۵۵۱۶) الله اس میں دو باتیں خصوصیت سے آنحضور ﷺ کے پیش نظر معلوم ہوتی ہیں۔اول یہ کہ جب گالیاں دیتے ہو تو پھر دوسرا بھی غصہ میں گالیاں دے گا اور جو گالیاں دے گا اس کا گناہ اس کو کچھ نہیں ہوگا کیونکہ اس نے بدلے میں قرآن کے دیئے ہوئے حق کے مطابق ایسا کیا ہے۔آخری نتیجہ صرف یہی رہ جاتا ہے کہ اس کی گالیاں تو تمہیں پہنچ جائیں گی اور تمہاری گالیاں اس کو نہیں پہنچیں گی بلکہ اپنے ماں باپ کو ہی پہنچ رہی ہوں گی۔پس حکمت کا کیسا ایک عظیم الشان سر چشمہ جاری فرما دیا اور اس کی بنیاد اس آیت کریمہ میں ہے جس میں فرمایا گیا وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام: ۱۰۹) دیکھو! دوسروں کے جھوٹے معبودوں کو بھی گالیاں نہ دیا کرو فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ وہ دشمنی اور جہالت میں پھر خدا کو گالیاں دینے لگیں گے۔تمہاری گالیاں جھوٹے معبودوں کو تو پہنچ ہی نہیں سکتیں۔ان کا تو وجود ہی کوئی نہیں۔ایک خالی ہوا کو گالیاں دے رہے ہو اور اس کے نتیجہ میں اس خدا کو گالیاں دلوا رہے ہو جو ساری کائنات میں نُورُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ ( النور :۳۶) بن کر ہر جگہ موجود ہے۔کیسا جاہلانہ سودا ہے، کتنی بے وقوفی کی بات ہے۔پس اسی مضمون کو عائلی تعلقات کی مناسبت سے بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے یہ پاک نصیحت فرمائی کہ ایک دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں نہ دیا کرو۔جو دے گا وہ اُن سب گالیوں کا ذمہ دار ہو گا جو اس کے ماں باپ کو پڑیں گی اور آخری نتیجہ یہ نکلے گا کہ گالیاں دینے والے کے ماں باپ کو صرف گالیاں پڑ رہی ہوں گی دوسرے کو پہنچیں گی ہی نہیں کیونکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدا کے نزدیک اس کو گالیاں نہیں مل سکتیں۔خدا کے نزدیک ناجائز بات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔پس اللہ کی تقدیر کے سامنے در حقیقت صرف اسی کے ماں باپ کو گالیاں مل رہی ہیں جو پہل کر رہا ہے، جو بد تمیزی میں آگے بڑھ چکا ہے۔