خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 297
خطبات طاہر جلد ۱۲ 297 خطبه جمعه ۱۶ راپریل ۱۹۹۳ء چاہتی ہیں۔ان بیویوں سے توقع رکھتی ہیں کہ خاوند کی ، اس کی بہنوں کی اس کی ساس کی یعنی خاوند کی ماں کی تمام تر خدمتیں ہوں اور وہ گویا کہ گھر کے لئے ایک نوکرانی پال لی گئی ہے یا خرید لی گئی ہے اور اسی ضمن میں اپنے بیٹے کی زندگی سنوارنے کی خاطر بعض دفعہ پروفیشنلز سے شادیاں کی جاتی ہیں بعض دفعہ لوگ مجھے بھی لکھتے ہیں کہ ہمیں تو کوئی ڈاکٹر عورت ڈھونڈ کر دیں۔کوئی استانی ڈھونڈ دیں، کوئی ایسی ہو جو کمانے والی ہو۔اسی وقت مجھے سمجھ آ جاتی ہے کہ نیت کیا ہے اور میں ان کو صاف لکھ دیتا ہوں کہ اپنے فساد کو اپنے طور پر رکھو۔میرا ہاتھ تمہارے فساد میں شامل نہیں ہوگا۔جو رشتہ کرنا ہے کر ولیکن اگر نیت وہ نہیں ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے تو وہ نیت فساد کی نیت ہے۔قرآن کریم نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ تا کہ تمہارے اقتصادی حالات بہتر ہو جائیں۔قرآن کریم نے یہ نہیں لکھا کہ بیویاں اس لئے لاؤ کہ ان کو گھر کی نوکرانیاں بنا دو یا اُن پر اپنے رعب جماؤ یا ان کو طعنے دو اور جہاں تک اس طعن و تشنیع کا تعلق ہے بہت سے گھر اسی وجہ سے اُجڑتے ہیں۔لڑکی گھر میں آئی ہے اور اس کی نندیں بیٹھ کر کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتی ہیں کہ اس کا تو قد اس طرح ہے، اس کا جسم اس طرح ہے۔اس کو بات کرنے کا پورا سلیقہ نہیں آتا، اس میں تو پوری حیا نہیں ہے، اس کا لباس ایسا ہے اور وہ مجھتی ہیں کہ ہم جو یہ باتیں بہت چسکے لے لے کر بیان کر رہی ہیں۔ہمارا بھائی بھی سن رہا ہے وہ بھی مزے لے رہا ہوگا ، ہمارے ماں باپ بھی خوش ہورہے ہوں گے کہ اس کو ایسی ایسی باتیں سنائی ہیں اور یہ نہیں سوچ رہیں کہ اس کے لئے ایک جہنم پیدا کر دی گئی ہے اور وہ جہنم پھر پھٹے گی، بڑھے گی اور سارے معاشرے کو آگ میں جلا دے گی۔چنانچہ ایسے گھر پھر جہنم کا نمونہ بن جایا کرتے ہیں۔پھر اس کا بھی منہ پھلتا ہے۔وہ پھر آگے سے باتیں کرتی ہے۔اپنے ماں باپ کے خلاف ایک بات سنتی ہے۔دو دفعہ سنے، چار دفعہ سنے۔آخر وہ بھی بول پڑتی ہے اور پھر وہ اپنے خاوند کے ماں باپ کو سنانے لگتی ہے۔پھر یہ معاملات بگڑتے بگڑتے ہاتھا پائی پر پہنچتے ہیں توں تکار ہوتی ہے اور بعض دفعہ ایسے واقعات بھی میرے علم میں آئے ہیں کہ لڑکی کو مارنے کے لئے یا لڑکے کو مارنے کے لئے سارا خاندان اس لڑائی میں شامل ہو گیا۔یہ ساری جہالت کی باتیں ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفے اللہ نے حسن معاشرت کے متعلق جو کچھ فرمایا ہے اور جو کچھ عمل کر کے دکھایا ہے وہ تو ایک لامتناہی سمندر ہے جس میں فیوض موجزن ہیں، جس میں حکمتیں موجزن