خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 296

خطبات طاہر جلد ۱۲ 296 خطبه جمعه ۶ اراپریل ۱۹۹۳ء دونوں طرف کے ماں باپ ہیں لیکن یہ قصور میں نے زیادہ تر دولہا کے ماں باپ میں دیکھا ہے اور نسبتاً کم بچی کے والدین میں کیونکہ بچی تو پرائی ہوتی ہے۔وہ جب رخصت کر دی جائے تو اس کے اوپر اتنا اثر اور اختیار نہیں رہا کرتا لیکن بیٹا تو ہمیشہ اپنا رہتا ہے اور عموماً وہ ممالک جن میں اقتصادی لحاظ سے ابھی پوری ترقی نہیں ہوئی اور میاں بیوی فوراً اپنا الگ گھر بنانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔وہ بیوی بہر حال اپنے خاوند کے ماحول میں، اس کے ماں باپ کے رحم و کرم پر، اس کی بہنوں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتی ہے اور اس پہلو سے میں نے دیکھا ہے کہ معاشرہ میں جو بھی ظلم ہے اس میں سب سے زیادہ قصور وار عورت ہے۔پہلے ایک خطبہ میں جس کا تعلق میری اہلیہ کے وصال سے تھا۔میں نے کچھ نصیحتیں کی تھیں اور ان میں خاوندوں کو خصوصیت سے پیش نظر رکھا تھا یا مردوں کو پیش نظر رکھا تھا۔مجھ سے شکوے بھی ہوئے کہ آپ نے سارا بوجھ مردوں پر ہی ڈال دیا ہے عورتوں کا بھی تو قصور ہوا کرتا ہے۔میں نے اُن سے کہا مجھے علم ہے کہ قصور ہوا کرتا ہے میں کسی وقت یہ باتیں بھی کروں گا لیکن بیوی فوت ہورہی ہو اور میں عورتوں کو کوسوں تو اس سے زیادہ جہالت اور ہو نہیں سکتی تھی۔موقع ایسا تھا جس کا تقاضا تھا کہ میں مردوں کو نصیحت کروں کہ وہ عورتوں کے حقوق ادا کریں اور ہر قسم کے ظلم سے باز آئیں مگر میں نے جہاں تک تجزیہ کیا ہے مجھے اس میں کوئی بھی شک نظر نہیں آتا کہ بگڑے ہوئے مردوں کی بنیاد بھی ان کی مائیں ڈالتی ہیں اور اُنہی بنیادوں پر ان کی عمارت استوار کرتی ہیں اور اکثر ایسی مائیں معاشرے کو بگاڑنے کی ذمہ دار ہیں جو عملاً اپنی اولاد کی اور اولاد میں سے اپنے بیٹوں کی عبادت کرتی ہیں اور اتنا زیادہ بلند مقام دیتی ہیں کہ بچپن ہی سے انہیں کھلی چھوٹ دی جاتی ہے کہ وہ چاہے ہمسایوں کا امن بر باد کریں، چاہے اپنی بہنوں کو ماریں کوٹیں اور فتنہ وفساد کریں لیکن ماں شیرنی کی طرح جھپٹ کران کی تائید میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے، دوڑتی ہے اور دوسروں سے بدکلامی کرتی ہے اور اس کے فتنے سے اس کی زبان کے شر سے بچنے کے لئے لوگ اپنے بچے سنبھالتے پھرتے ہیں۔ایسی مائیں خواہ اس مقام تک نہ بھی پہنچی ہوں اس سے ورے ورے بھی بہت سے مقام ہیں جن میں یہ بنیادی نقص یعنی اپنے بچے کی عبادت کرنا یہ صاف دکھائی دینے لگتا ہے اور ایسی مائیں اپنے بچوں کو نہ صرف ابتداء میں بگاڑ دیتی ہیں بلکہ بعد میں جب ان کی بیویاں آتی ہیں تو ان بیویوں پر فرعون کی طرح حکومت کرنا