خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 285

خطبات طاہر جلد ۱۲ 285 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء پس وہی خلیفتہ اللہ کی باتیں ہی ہیں جو نظام میں بھی جاری وساری ہوتی ہیں اور ہر ابتلاء کے وقت وہ ابتلاء پھر در پیش ہوتے ہیں۔اگر چہ ان کی سطح نیچے کی سطح ہوتی ہے۔پس جب کسی شخص کا نفس کچلا جائے اور وہ نظام جماعت کے نمائندوں پر اعتراض کرتا ہے تو ان کا فرض ہے کہ اس کو منہ توڑ جواب دیں اور اس کو کہیں کہ تم اس سے پہلے کہاں تھے۔تم باتیں وہ بیان کر رہے ہو جو سال دو سال چار سال پانچ سال دس سال پہلے کی باتیں ہیں تم ساتھ شامل رہے ہو تم نے پہلے کیوں ہمیں نہ بتایا تم نے پہلے کیوں نظام جماعت کو متوجہ نہیں کیا تم اس شخص کے ساتھ پہلے کیوں تعاون کیا کرتے تھے۔پس یہ تمہاری انانیت ہے اور ہم خدا کے بندے ہیں اس لئے تم ہم پر غالب نہیں آسکتے یہ باتیں ہم سے نہ کرو۔یہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے جو لوگ ان کا ساتھ اختیار کرتے ہیں قرآن کریم فرماتا ہے کہ پھر وہ ان جیسے ہی ہو جاتے ہیں اگر تم اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرو گے اور ان کے ساتھ خلا ملا رکھو گے تو رفتہ رفتہ تم حزب شیطان بنتے چلے جاؤ گے اور پھر یہ گروہ بنتے ہیں اور انانیت کا ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔پہلے اپنے نفس کی مخفی طاقتوں پر ناز کرنے کے نتیجہ میں یا اپنے نفس کی ان فضیلتوں پر نگاہ رکھنے کے نتیجہ میں جو اللہ ہی کی طرف سے ان کو عطا ہوئی تھیں وہ خدا کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیتے ہیں پھر اس کے نتیجہ میں گروہ بندی کرتے ہیں اور ان کا گروہ ان کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وہ ان کے سردار بننے لگ جاتے ہیں اور یہ سارے مل کر اپنی اس گروہی طاقت کے برتے پر زیادہ خدا کے نمائندوں پر دوبارہ اور زیادہ طاقت سے حملے کرتے ہیں۔اس طرح نظام جماعت میں تفریق کا کام شروع ہو جاتا ہے ایسی کئی جماعتیں ہیں جن پر میری نظر ہے بہت سی جگہ میں نے بہت کوشش کی محنت کی اور سمجھایا اور اللہ کے فضل کے ساتھ وہ لوگ سمجھ گئے اور جماعت کی بھاری تعداد چونکہ ان لوگوں سے منہ پھیر گئی اور نظام جماعت کے ساتھ وابستہ رہی اس کی مؤید رہی اس لئے ان کی شیطانی طاقتیں اگر مرنہیں گئیں تو مٹ گئیں، ذلیل ورسوا ہو چکی ہیں اور رجیم بن کر دنیا کے سامنے ظاہر ہوئی ہیں۔جب تک یہ رجیم طاقتیں کسی جماعت میں رہیں گی جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے غلبہ نصیب رہے گا جب یہ رجیم طاقتیں بہت سے بندوں پر اثر انداز ہو جائیں اور جماعت کے ایک حصہ کو لپیٹ لیں تو وہاں خدا کے بندے تھوڑے رہ جاتے ہیں اور شیطان کے بندے بڑھ جاتے ہیں۔پس ان عادتوں کو اور ان لوگوں کو خوب اچھی طرح پہچانیں۔