خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد ۱۲ 284 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء دیا کرتے تھے وہ زندگی جس میں بناوٹ کو ئی نہیں تھی جس میں ابھی پتا نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے اس زندگی میں جبکہ اس دعویدار نے خدا کی نمائندگی کا لبادہ نہیں اوڑھا ہوا اس لئے دنیا کی نظر سے بچنے کی اسے ضرورت کو ئی نہیں ہے۔وہ کھلا کھلا تمہارے سامنے تھا۔اس کھلی ہوئی کتاب میں تمہیں کوئی نقص دکھائی نہیں دیا اب جب کہ وہ دعوے کر چکا ہے وہ دنیا کا سب سے گندہ انسان بن گیا یہ ہو ہی نہیں سکتا یہ فطرت انسانی کے خلاف ہے، ابدی سچائیوں کے خلاف ہے۔پس پہلے تم یا تو اس مضمون پر معاملہ طے کر لو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوئی سے پہلے کی زندگی میں تمہارے علماء نے اور ان لوگوں نے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے ان کے اندر خوبی کے سوا کبھی کوئی برائی دیکھی، دیکھی ہو تو بتاؤ کہ کب بیان کی کس کے سامنے بیان کی ان برائیوں کے باوجود اتنا عظیم الشان خراج عقیدت ان کو کیوں پیش کرتے رہے کہ آنحضرت ﷺ کے وصال سے لے کر اب تک یعنی اس زمانہ کے لحاظ سے گزشتہ تیرہ سو سال میں مرزا غلام احمد سے بڑھ کر کسی نے اسلام کی خدمت کی ہو تو لا کر دکھائے اور کوئی ایشیائی سے مبالغہ نہ سمجھے۔ہم ساری تاریخ اسلام پر نظر ڈال کر یہ بیان کر رہے ہیں کہ اسلام کی خدمت کرنے والا اور اسلام کا دفاع کرنے والا اس جیسا تیرہ سوسالہ اسلامی تاریخ میں کوئی اور پیدا نہیں ہوالیکن جب خدا اس وجود کو اس مٹی کو ایک منصب پر فائز کر دیتا ہے اور اس مٹی میں روح پھونک کر اس کو خلیفہ اللہ بنا دیتا ہے تو یہ اقرار یہ اعتراف کرنے والے یہ عظیم خراج تحسین پیش کرنے والے اچانک اس میں ساری خرابیاں دیکھنے لگتے ہیں۔پس حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے دفاع میں جو دلیل اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے یہ ایک دائمی ہمیشہ زندہ رہنے والی دلیل ہے جب بھی کسی احمدی کے سامنے کوئی دوسرا غلطی خوردہ مولویوں کے بہکانے سے ایسی باتیں کریں تو وہ اسے اس آیت کی طرف متوجہ کرے اور کہے کہ یہ مضمون تب زیر بحث آئے گا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی زندگی میں تم نقص دکھاؤ گے اس وقت تک یہ مضمون خدا تعالیٰ کے زیر بحث آہی نہیں سکتا۔ہاں جو دعاوی ہیں جو اعتقادی اختلافات ہیں اُن پر بحث کرو اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا ، قرآن اسلام رسول اللہ ﷺ کا جو تصور پیش فرمایا ہے۔وہ قرآن اور سنت سے ہٹ کر ہے تو ہم جھوٹے اور تم سچے پہلے ان بنیادی باتوں پر فیصلہ کر لو پھر یہ بحث آئے گی۔صلى الله