خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 283

خطبات طاہر جلد ۱۲ 283 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء بچے ہیں یا جھوٹے ہیں مشکل نہیں ہے کیونکہ جس وقت تک یہ اپنے آپ کو مٹی کی سرشت سے ظاہر کرتے چلے آئے تھے اس وقت تک یہ سب نقائص دیکھتے تھے اور انہوں نے قبول کئے ہوئے تھے اگر یہ بچے ہیں تو اس وقت تک ان سب نقائص پر ان کی نظر تھی مگر یہ نقائص ان کی اطاعت کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہوئے۔جب سزا ملی، جب انا چلی گئی تب اچانک وہ آدم کس طرح سب سے زیادہ گندا ہو گیا۔پہلے جس کے وہ ساتھی ہوا کرتے تھے پہلے بعض دفعہ وہ جس کی مجلس عاملہ میں ممبر ہوا کرتے تھے، بعض دفعہ اس کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے کیا وجہ ہوئی کہ اچانک وہ شخص جس کی ساری برائیاں ہمیشہ سے ان کی نظر میں اچھی تھیں اس وقت وہ برائیاں ان کو تکلیف نہیں دیتی تھیں اس وقت انہوں نے ان برائیوں کی طرف نہ ان کو متوجہ کیا نہ نظام جماعت کو متوجہ کیا لیکن جب اُسے آدم مقرر کر دیا گیا اور ان کو ہٹا دیا گیا تو اچانک اس کی برائیاں سامنے آگئیں۔یہی شیطانیت کا فلسفہ ہے جو صرف عام عہدوں سے تعلق نہیں رکھتا نبوت سے اور خلافتہ اللہ سے اس کا اولین تعلق ہے اور گہراتعلق ہے ہے۔قرآن کریم رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دے۔فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرً ا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس : ۱۷) محمد رسول اللہ تو کہہ کہ جب خدا نے تجھے مقرر فرما دیا جب تو نے دعوی کیا تو تجھ میں ہزار قسم کے نقائص بیان کرنے لگے ہر خوبی سے تجھے عاری قرار دیا ، ہر برائی تجھ میں داخل کر کے لوگوں کو دکھانے لگے ان سے کہہ کہ میں نے ایک عمر تمہارے اندر گزاری ہے کیونکر عقل نہیں کرتے کہ اس چالیس سالہ عمر میں تمہیں کبھی میرے اندر کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی تھی آج اچانک اس وجہ سے کہ خدا نے مجھے ایک منصب عطا فرمایا ہے میں سب سے گندا کیسے ہو گیا۔بہت ہی عمدہ اور ٹھوس دلیل ہے اور احمدیوں کے لئے اس میں ایک اور نصیحت بھی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے متعلق دشمن جتنے بھی حملے کرتا ہے وہ ہمیشہ اس راہ سے حملے کرتا ہے اور احمدی اپنی معصومیت میں اس میدان میں ان سے جھگڑے کرتے ہیں احمدیوں کو چاہئے کہ ان سے کہیں کہ قرآن کریم ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ اس مضمون کو چھیڑیں جب تک تم پہلے یہ ثابت نہ کرو کہ اس دعویدار کی پہلی زندگی میں تم کیڑے ڈالا کرتے تھے اور یہ نقائص تمہیں دکھائی