خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 281
خطبات طاہر جلد ۱۲ 281 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء ان دونوں صفات میں محمد مصطفی یہ تمام بنی نوع انسان پر سبقت لے گئے ہیں اور جہاں بنی نوع انسان کی رفعتیں ساتویں آسمان پر ٹھہر جاتی ہیں حضرت محمد ﷺ کی رفعتیں اس سے بھی بلند تر ہو جاتی ہیں اگلے مقامات تک جا پہنچتی ہیں۔پس ساری ترقیات کا راز تو بجز اور مٹی بننے میں ہے۔پس وہ لوگ جو نظام جماعت کے سامنے سر اٹھاتے ہیں اور اپنے علو کی باتیں کرتے ہیں ان کو تو خدا کا یہی جواب ہے کہ فَاخْرُجُ مِنْهَا ان بلندیوں سے نکل جاؤ ان رفعتوں سے تمہیں عاری کر دیا گیا ہے جو میری طاقتوں کے مثبت پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔ہاں جہاں تک ان طاقتوں کے منفی پہلو کا تعلق ہے وہ تم استعمال کرو۔قیامت تک کرتے چلے جاؤ لیکن میرے بندوں پر تمہیں غلبہ نصیب نہیں ہوگا۔پس خدا کی نمائندگی میں جو بجز کے ساتھ خدا کی نمائندگی کا اس کے نظام جماعت کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہیں وہ خدا کے فضل سے مقام محفوظ پر فائز ہیں یہ شریر لوگ ان کو تنگ کرنے کی کوشش کریں گے ان کے خلاف بغاوت کریں گے ان کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا ئیں گے ان کی کمزوریاں لوگوں کے سامنے پیش کریں گے، جتھے بنائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ قیامت تک ان پر ان شیطانوں کو غلبہ نصیب نہیں ہو سکتا۔وہ لوگ جو ان کی باتوں میں آکر ان کی تائید میں باتیں کرنے لگیں گے اور ان کو حمایت دیں گے۔ان کا نقصان ہے اس قسم کے لوگ اپنی علامتوں ނ سے پہچانے جاتے ہیں پس نظام جماعت کی بات ہو رہی ہے میں تمام دنیا کی جماعتوں کو تفصیل۔سمجھا رہا ہوں کہ نظام جماعت کی روح اور اس کے فلسفے کو سمجھیں جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور پھر خوب متنبہ رہیں کہ آپ کی حرکتیں آپ کو کس گروہ میں لے جاتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ عام حالات میں نہایت ہی تابع فرمان اپنے خطوں میں بھی اور ویسے اظہارات میں بھی اور جماعت سے تعاون میں بھی بہت عمدہ خصلتوں کا اظہار کرتے ہیں بڑا عمدہ رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن ابھی وہ آزمائے نہیں جاتے شیطان کا اس وقت تک دنیا کو اور فرشتوں کو پتا ہی نہیں چلا جب تک وہ آزمائش میں نہیں ڈالا گیا۔جب تک وہ آزمائش میں مبتلا نہیں ہواوہ ایسا ہی ایک وجود تھا جیسے عام طاقتوں والا ایک وجود ہوا کرتا ہے اور ان مخلوقات میں شامل پھرتا تھا جو خدا تعالیٰ نے اس آزمائش کے واقعہ سے پہلے آزاد چھوڑی ہوئی تھیں۔جب آزمائش میں ڈالا گیا تو اس کی انانیت پچلی گئی ہے جس طرح سانپ کی دم کو رگڑا جائے تو پھر وہ بھڑکتا ہے بعض