خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد ۱۲ 279 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء سے باہر نکل جاؤ گے تو فَاخْرُجُ مِنْهَا میں یہ پیغام ہے کہ جا پھر تمام اعلیٰ صلاحیتوں سے تجھے عاری کر کے محض خالی آگ سے کھیلنے والا ایک وجود بنا دیا گیا ہے۔اب اس کو جس طرح چاہے استعمال کر اس سے کبھی خیر پیدا نہیں ہوگی۔پس نظام جماعت کے اس پہلو کو سمجھیں اور اپنی اطاعت کی حفاظت کریں۔یہ نہ دیکھیں کہ کون ہے جس کو نظام جماعت کی نمائندگی کا حق عطا کیا گیا ہے یہ غور کریں کہ کس نے عطا کیا ہے کس کی نمائندگی کر رہا ہے۔کسے عطا کیا ہے۔مٹی میں ہمیں یہ پیغام دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی نمائندگی میں ہمیشہ عاجز بندوں کو چنا کرتا ہے اور شیطان کی اباء کے مقابل پر آگ کی سرکشی کے مقابل پر دیکھیں کتنا خوبصورت مضمون سجا کر پیش فرمایا گیا ہے جس بات پر شیطان نے اعتراض کیا اسی بات میں اس کا جواب تھا کہ اے جاہل میں تو مٹی کو پسند کرتا ہوں جو راہوں پر بچھ جاتی ہے۔میں تو ان انسانوں کو پسند کرتا ہوں جن میں مٹنے کی اور عاجزی کی صلاحیتیں موجود ہیں۔جب وہ میری راہ میں بجھتی ہیں تو ان سے پھر نشو و نما ہوتی ہے، اُن سے اعلیٰ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔اب اس پہلو سے آپ دیکھیں کہ تمام کائنات میں جہاں بھی زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں وہاں مٹی کی خصلت سے زندگی پیدا ہوتی ہے۔آگ سے زندگی پیدا نہیں ہوتی۔آگ سے جناتی زندگی تو پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے بھی فرمایا ہے یعنی وہ زندگی جو باغیانہ حرکتیں کرتی ہو جس میں تکبر پایا جا تا ہو۔چنانچہ مادی دنیا میں بھی بعض وجود جو خطرناک اور مہلک بیکٹیریا پر مشتمل ہیں وہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں اور باقی صلاحیت رکھنے والی تمام زندگی گیلی مٹی سے پیدا ہوئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس مضمون پر بھی روشنی ڈال دی کہ دیکھو ساری نشو و نما تو مٹی سے ہو رہی ہے اور انسان اس سے پیدا ہوکر کتنی بلندیوں تک جا پہنچتا ہے لیکن بجز کے آخری زینے سے جس سے نیچے بجز کا مقام نہیں وہاں سے زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے، وہاں سے بلندیوں کا سفر ہوتا ہے۔پہلا زینہ بجز اور انکساری میں رکھا گیا ہے جس کا قدم پہلے زینہ پر نہیں پڑتا وہ کسی بلندی تک نہیں پہنچے گا تو اب ملا‘ والا مضمون بھی سمجھ آگیا اللہ تعالیٰ فرما تا کہ تو نے پہلے زینہ پر تو قدم نہیں رکھا جو اطاعت اور انکساری کا زینہ ہے تو اونچا کیسے اڑ گیا ؟ کیسے تجھے وہ بلندیاں نصیب ہو گئیں جن کے نتیجہ میں تو میرے آدم پراکٹر اکٹر کر تکبر سے باتیں کرتا ہے اسے ہم نے بجز کے مقام سے اٹھایا ہے اور وہاں سے رفعتیں بخشی ہیں اور وہ جو خدا کی راہ میں سب سے