خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد ۱۲ 278 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء سانپ ضر ور سر اٹھائے گا اور بغاوت کرے گا اور خود اپنے مالک کو ہلاک کر دے گا۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اسی مضمون کو واضح فرماتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ شیطان؟ شیطان تو ہر انسان کی رگ و پہ میں دوڑ رہا ہے۔تم باہر کے شیطان کی باتیں کرتے ہواندر کے شیطان کی فکر کرو جو ہر شخص میں موجود ہے۔یہ وہی مضمون ہے جس کے متعلق اس دعانے ہمیں متنبہ فرمایا کہ اے خدا ہم پناہ مانگتے ہیں من شرور انفسنا اپنے نفس کے اندرونی شر سے پس ہر شخص میں ایک شر ودیعت کیا گیا ہے یہ فطرت کا حصہ ہے چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جب یہ فرمایا تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کے اندر بھی؟ آپ کے اندر بھی یہ شیطان موجود ہے تو فرمایا کہ ہاں لیکن وہ مسلمان ہو گیا ہے۔( ترمذی کتاب الرضاعة حدیث نمبر: ۱۰۹۲) کلیۂ سرتا پا اسلام قبول کر چکا ہے۔پس یہ فلسفہ ہے جسے سمجھنے کے نتیجہ میں آپ کو اپنی صلاحیتوں کے استعمال کا سلیقہ آجائے گا۔یہ شیطان ہی ہے جو فعالیت کی قوت عطا کرتا ہے یعنی جس کو آپ شیطان کہہ رہے ہیں یہ دراصل توانائی ہے ایک ولولہ ہے ایک جوش ہے ایک طاقت ہے جن لوگوں میں زیادہ ہو وہ زیادہ کام کر سکتے ہیں۔شرط یہ ہے کہ وہ سجدہ کر دیں اور خدا کی اطاعت کے تابع ہو جائیں تب ایسے لوگ بڑے عظیم الشان کام کرتے ہیں اور خدمت دین میں ہمیشہ صف اول میں ہوتے ہیں اور ان کو عام انسانوں سے غیر معمولی طور پر بڑھ کر خدمت کی توفیق ملتی ہے جو خود اس انانیت کا شکار ہو جائیں وہ اپنی انا سے ڈسے جاتے ہیں اور پھر وہ چونکہ اطاعت سے باہر نکل جاتے ہیں پھر ان کی یہ تمام تر صلاحیتیں ہمیشہ منفی اثرات پیدا کرنے میں خرچ ہوتی ہیں۔ان سے بنی نوع انسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا پس صلاحیتیں وہی ہیں جو خدا کی رضا کے تابع ہو جائیں صلاحیتیں وہی ہیں جو اسلام قبول کر لیں ان کے سوا جتنی صلاحیتیں ہیں وہ سب منفی صورتیں ہیں۔پس قرآن کریم نے آگ کی مثال دے کر یعنی شیطان کے منہ سے یہ بات بیان کر کے بہت ہی گہرا اور ہمیشہ رہنے والا ایک فلسفہ ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔طاقت کے بغیر دنیا میں کوئی کام نہیں چل سکتا لیکن ہر طاقت میں دو پہلو ہیں ایک شر کا پہلو ہے اور ایک خیر کا پہلو ہے۔تم اپنی طاقتوں کو اگر خدا کی نمائندگی میں سجدہ ریز کر دو اور تمہاری طاقتیں اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کے پیدا کردہ نظام کے تابع ہو جائیں تو ان سے عظیم الشان کام سرانجام ہوں گے لیکن اگر تم اطاعت کی حد