خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 277
خطبات طاہر جلد ۱۲ 277 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء وہ جو ان صفات سے مرعوب ہوتے ہیں جو منفی اور شیطانی صفات ہیں جن کے اندر پہلے ہی اندرونی بیماریاں موجود ہیں وہ تیری طرف جائیں گے اور تیری باتوں سے متاثر ہوں گے مجھے ان سے کوئی غرض نہیں ، وہ تیرے بندے بن جائیں گے۔یہ وہ آیات کریمہ ہیں جن میں ہمیشہ کی جدوجہد کا فلسفہ بیان فرما دیا گیا ہے جو حق اور باطل کے درمیان جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔وہ لوگ جو نظام جماعت کو اس آیت اور اسی قسم کی دوسری آیات کا مفہوم سمجھتے ہوئے خدا کے دو ہاتھوں کی تخلیق سمجھتے ہیں وہ نظام جماعت کے سامنے کبھی تکبر سے کام نہیں لیتے اور ہمیشہ اطاعت یعنی سجدہ کرتے ہوئے ان راہوں پر چلتے ہیں جو راہیں خود اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کے لئے مقرر فر مارکھی ہیں اور وہ لوگ جو اپنی انانیت کا شکار ہوتے ہیں ان کے اندر ایک شیطان ہے جو سر اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ نظام جماعت کا یہ نمائندہ اس کی کیا حیثیت ہے۔اس جاہل کو تو تلاوت بھی صحیح نہیں آتی اس کو تو فلاں کام ٹھیک نہیں آتا اس میں فلاں کمزوری ہے اور ہم صاحب علم ہیں ہمیں فلاں فلاں فضیلتیں حاصل ہیں اس کی قوم یہ ہے ہماری قوم یہ ہے ہمارے ساتھ جتھہ ہے اس کے ساتھ جتھہ کوئی نہیں ہمیں اکثر لوگوں نے ووٹ دیا ہے اور آپ ان ووٹوں کو نظر انداز کر کے اس کو چن رہے ہیں جس کو چند آدمیوں نے ووٹ دیا تھا۔ہم افضل ہوئے کہ یہ افضل ہوا اس لئے ہم اپنے سے ادنی کی اطاعت نہیں کریں گے۔جب وہ یہ کہتے ہیں تو وہ اطاعت سے باہر نکل جاتے ہیں اور ان کی تمام وہ صفات جن پر بنا کرتے ہوئے وہ تکبر کا اظہار کرتے ہیں ان کی مثبت صلاحیتیں ان سے چھین لی جاتی ہیں اب ان کا وجود محض نقصان رساں وجود ہے اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ایسے لوگ نظام میں اپنا جتنا وقت خرچ کرتے ہیں ہمیشہ منفی سوچیں رکھتے ہوئے ، نظام کو نقصان پہنچانے کے لئے پچھلی انانیت کا بدلہ لینے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔پس وہ سانپ جس نے آدم اور حوا کو گمراہ کرنے کے لئے ڈسا تھا یعنی روحانی طور پر ڈسا تھا اور بائبل کے بیان کے مطابق ان کو چاپلوسی کی باتیں کر کے ان کو گمراہ کیا۔وہ سانپ دراصل انانیت کا ہی سانپ ہے۔ہر انسان میں موجود ہے جب اس کو موقع ملے گا یہ سر اٹھائے گا اور ڈسے گا اور اس کو موقع دینا یا نہ دینا ہر بندے کے اختیار میں ہے۔پہلے وہ انسان مسلمان ہو جس کے اندر یہ سانپ موجود ہے پھر اس کے سانپ کو یہ توفیق ہی نہیں مل سکتی کہ وہ اسے ڈسے پہلے وہ آدم کو سجدہ کرے تو اس کے اندر کا سانپ مجبور ہوگا کہ اس کے تابع رہے ورنہ یہ