خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 276

خطبات طاہر جلد ۱۲ 276 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء کا حکم ہے وہ اس حالت کا ذکر ہے جس حالت کے نتیجہ میں وہ تکبر کر رہا تھا۔آگ میں دوطرح کی صفات ہیں۔ایک وہ صفات ہیں جو بنی نوع انسان بلکہ حقیقت میں تمام مخلوق کے لئے غیر معمولی فائدے رکھتی ہیں اور ان کے نتیجہ میں سارا نظام حرکت میں ہے اور ایک وہ صفات ہیں جو منفی پہلو رکھتی ہیں اور وہ جلاتی ہیں اور ان میں تباہ و برباد کرنے کی طاقتیں پائی جاتی ہیں۔یہ آگ کا استعمال ہے جیسے بھی کوئی کر لے۔پس آگ کو اگر آپ صحیح معنوں میں خدا تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کریں، ان قوانین کے تابع استعمال کریں جن قوانین کو خود خدا نے پیدا فرمایا ہے تو وہ آگ دنیا میں عظیم الشان کام کرنے کی صلاحیت انسان کو عطا کرتی ہے۔حقیقت میں ہماری ساری انرجی ساری فعالیت کا دارو مدار آگ پر ہے لیکن آگ ہی ہے جو ان سب چیزوں کو برباد بھی کر سکتی ہے۔اب اٹامک انرجی ہے وہ آگ ہی سے تو سب کچھ حاصل ہو رہا ہے لیکن اس کے اندر خطرات بھی بہت مضمر ہیں۔جہاں بھی اٹامک انرجی کا وہ پلانٹ نظام سے باغی ہوگا وہاں وہ ہلاکت کا موجب بن جائے گا جہاں وہ آگ اطاعت کرے گی وہاں خیر اور خوبی اور فوائد کا موجب بن جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے بہت گہری حکمت کی بات یہاں بیان فرمائی اور تحکم کے ساتھ کسی آمرانہ انداز میں اس کی بات کور د نہیں فرمایا۔فرمایا! آگ کی جو بات تو کہتا ہے وہ درست ہے لیکن آگ کی اعلیٰ حالت سے ہم تجھ کو نکال دیتے ہیں کیونکہ وہ حالت اطاعت کے نتیجہ میں ملتی ہے۔تو جب اطاعت کی حد سے باہر گیا تو آگ کی تمام مثبت صفات سے تجھے عاری کر دیا گیا ہے۔اب تو صرف ہلاک کرنے کی صلاحیتیں رکھتا ہے، اب تو صرف نقصان پہنچانے کی صلاحیتیں رکھتا ہے پس ہم تیرے اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور تجھے ان فوائد سے محروم کرتے ہیں جو آگ میں اطاعت سے وابستہ فرمائے گئے ہیں اور تو خود اپنے منہ سے اقرار کرتا ہے کہ میں تیری اطاعت سے باہر جاتا ہوں کیونکہ جس کو تو نے بنایا ہے۔میں اس کو ادنی سمجھتا ہوں، اس لئے ہم تجھے باہر نکالتے ہیں تب شیطان نے کہا کہ پھر مجھے رخصت دی جائے میں اپنا زور ماروں اور اللہ تعالیٰ نے اُسے قیامت تک کے لئے رخصت دے دی کہ زور مارتے رہو۔ایک اور موقع پر فرمایا کہ بے شک زور مارو۔اپنے لشکر چڑھالو اپنے گھوڑے اور اپنے اونٹ اور اپنے تمام سوار اور پیادہ جو طاقتیں تمہیں حاصل ہیں استعمال کرو اور میرے بندوں کے خلاف ان کو چڑھا لاؤ لیکن میں تمہیں بتا تا ہوں کہ میرے بندوں پر تجھے غلبہ نصیب نہیں ہوگا وہ میرے ہی رہیں گے۔ہاں