خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 267
خطبات طاہر جلد ۱۲ 267 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء کے ساتھ کوئی مماثلت بھی رکھتے ہیں۔دنیا میں کروڑوں اربوں مسلمان موجود ہیں، عیسائی موجود ہیں، ہندو سکھ ہر قسم کے لوگ موجود ہیں مگر آپ نگاہ ڈال کر دیکھ لیں آپ کو یہ روح اطاعت، جیسی جماعت احمدیہ میں ہے اور نیکی کی خاطر جھک جانے کی یہ صلاحیت، جو جماعت احمدیہ میں ہے اور کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ایک آواز پر ساری دنیا میں دلوں میں بہیجان پیدا ہو جاتا ہے اور انسان پورے جذبہ اور روح کے ساتھ دوڑتا ہوا اس آواز پر لبیک کہتا ہوا چلا آتا ہے۔پس ایک حج تو وہ ہوتی ہے جو سال میں ایک دفعہ حج سکھانے کے لئے آتی ہے اور ایک حج وہ ہے جب کل عالم میں مسلمان سمعنا واطعنا کہتے ہوئے نیکی کی طرف دوڑتے ہیں۔یہ وہ حج ہے جو دائمی حج ہے جس کی حالت میں مومن زندگی بسر کرتا ہے۔آج اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو یہ حج نصیب ہے اور آپ نے دنیا میں کسی اور کو نیکیوں پر ایسا لبیک کہتا ہوا کسی اور کو نہیں دیکھا ہو گا۔چندوں کی تحریک کرو تو عورتیں زیورا تاراتار کر پھینکنے لگتی ہیں۔لوگ قرضے لے کر اس امید پر چندے دیتے ہیں کہ خدا رزق بڑھائے گا، حیثیت سے بڑھ کر چندے دیتے اور پھر اللہ کی حیرت انگیز تائید کے نشان دیکھتے ہیں۔ادھر ایک وعدہ کیا اور جانتے ہیں کہ نہیں، سابقہ تجربہ یہ بتا تا ہے کہ وعدہ اتنے خلوص سے کیا جاتا تھا کہ خدا خود سامان کر دیتا تھا اور ادھر واقعہ پھر دوبارہ وعدہ پورے کرنے کے سامان غیب سے ہو جاتے ہیں۔پس یہ جماعت متقیوں کی جماعت ہے۔میں اس کو پہلے مضمون کے ساتھ باندھ کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب میں تاکید کرتا ہوں کہ دیکھو! تقوی اختیار کرو، تقوی اختیار کرو تو مراد یہ نہیں ہے کہ میں آپ کو تقویٰ سے خالی دیکھتا ہوں۔اگر تقویٰ سے خالی دیکھتا تو یہ باتیں مجھے دکھائی نہ دیتیں جو میں بیان کر رہا ہوں لیکن میں خطرات کے بعض مقام ضرور دیکھتا ہوں۔پہلے کا کمایا ہوا تقویٰ ہے جو سہارا دے رہا ہوتا ہے۔متقیوں کی اعلیٰ روایات ہیں جو آپ کے جماعتی وجود کا حصہ بنی بیٹھی ہیں۔اگر خود تقویٰ نہ کمایا، تو اس کمائی پر زیادہ عرصہ گزارا نہیں ہوگا۔آپ ہیں تو متقیوں کی جماعت لیکن اپنے باپوں کا تقویٰ نہ کھائیں۔اپنے لئے تقویٰ پیدا کریں اور اپنی اولاد کے لئے تقویٰ چھوڑ کر جائیں۔تب آپ اس دعا کو اپنے حق میں قبول ہوتا دیکھیں گے کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا اے ہمارے رب ہمیں متقیوں کا امام بنانا۔اب آخر پر بظاہر ایک بے تعلق سی بات ہے لیکن اس میں بھی نیکی کا ایک پیغام دینا مقصود