خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 266
خطبات طاہر جلد ۱۲ 266 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء بہن سمجھتی تھی کہ میری چھوٹی عمر کی بہن وہاں ضائع ہوگئی اور سفاکوں کے ہاتھ چڑھ گئی۔اس کے نتیجہ میں اس کی جان کو ایک روگ لگا ہوا تھا۔اس نے جب ایک بس سے اپنی چھوٹی بہن کو اترتے دیکھا تو اچانک جو اس کی کیفیت ہوئی وہ نا قابل بیان ہے۔کہتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دوڑیں اور لپٹ کر اس طرح چیخیں مار مار کر روئی ہیں کہ جہاں جہاں وہ آواز پہنچتی تھی سارے سننے والے رو پڑے اور ان کی خوشی کے آنسوؤں میں دور دور تک سب دیکھنے والے احمدیوں کے خوشیوں کے آنسو شامل ہو گئے۔عجیب طرح کی وہ عید منائی گئی ہے اور اس قسم کی عید میں یورپ میں دوسری جگہ بھی منائی گئی ہیں۔پاکستان میں بھی جو عید میں منائی گئیں ان میں غریبوں کو اپنے ساتھ شامل کیا گیا اور جیسا کہ میں نے نصیحت کی تھی عیدوں کی صبحیں تو نمازوں سے معطر ہو گئیں، نمازوں سے منور ہوگئیں اور عیدوں کے دن غریبوں کی ہمدردی سے روشن ہوئے اور غریبوں کی ہمدردی سے۔انسان کو رضائے باری تعالیٰ کا جونور ملتا ہے اس نور سے روحیں نہا گئیں ، بہت ہی پُر لطف کیفیات پر مشتمل خطوط ملتے ہیں اور لوگ بتاتے ہیں کہ اس طرح ہماری عید میں سنور گئیں اور بہت ہی مزا آیا جو عام حالات میں عیدیں منانے کا مزا نہیں آیا کرتا۔تو خدا کے فضل سے دنیا میں ہر جگہ جماعت احمدیہ نے ایک ایسی عید منائی ہے کہ جس عید میں باقی لوگ شریک نہیں ہو سکتے ، ان بیچاروں کی پہنچ نہیں ، ان کی دسترس نہیں۔جماعت احمدیہ کا جو یہ پہلو ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک صلى الله عظیم نشان ہے کیونکہ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ( البقرہ: ۲۸۶) کی روح حضرت محمد رسول اللہ الیہ کے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتی ، ناممکن ہے۔دنیا کی بڑی سے بڑی قوموں کا جائزہ لے کر آپ دیکھیں یہ روح جو نیکی کی بات سنتے ہی انسان کو خود بخو دطوعی طور پر تعاون پر مجبور کر دیتی ہے اس روح کا تعلق محمدیت سے ہے اور خاتمیت کا یہ معنی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے سوا اب یہ صلى الله روح آپ کو کہیں اور سے میسر نہیں آسکتی۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے سچے اور کامل غلام نہ ہوتے تو ناممکن تھا کہ آپ کی جماعت کو یہ ایسی روح ملتی کہ دنیا کے پردے پر دنیا کی کوئی جماعت یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتی کہ ہم اطاعت میں اور خدا کی رضا کی خاطر اطاعت میں جماعت احمدیہ