خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 265

خطبات طاہر جلد ۱۲ 265 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء طور پر ادا کرتا ہے اور جن کے ہونے نہ ہونے سے اس کے اوپر کوئی فرق نہیں پڑتا۔کوئی نماز کھوئی گئی تب بھی کوئی تکلیف نہیں۔پڑھی گئی تو خاص لذت کے ساتھ نہیں پڑھی گئی۔پس ہر نمازی کو جب تک خود نماز کے ساتھ تعلق قائم نہ ہو جائے اس وقت تک ہم حقیقت میں نمازوں کو قائم نہیں کر سکتے اور جو شخص اپنے ضمیر کے تعلق کے نتیجہ میں یعنی جس کے ضمیر کو نماز سے ہمیشہ کی وابستگی ہو جائے جو اس کے نتیجہ میں نمازیں پڑھتا ہے اس کے تقویٰ کی اللہ حفاظت فرماتا ہے وہ ہے جو حقیقت میں خدا کی نظر میں منتقی بنتا چلا جاتا ہے کیونکہ ہر عبادت کے بعد اسے خدا کی طرف سے ایک تقویت نصیب ہوتی ہے اور اس کا تقویٰ آسمان سے اترتا ہے۔پس میں دنیا کی تمام جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے تقویٰ کی حفاظت کریں اور تقویٰ کی حفاظت کرنی ہے تو عبادتوں کی حفاظت کریں اور پھر جب آپ دنیا میں کوئی بھی انتخاب کریں گے ، تو خواہ وہ مجلس شوریٰ کا ہو یا عہدیداران کا ہو وہ انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رضا یا فتہ ہو گا۔اس ضمن میں اب مختصر آ میں آپ کو یہاں کی عید کا بھی ایک قصہ سناتا ہوں۔یہاں جو عید منائی گئی وہ اس لحاظ سے ایک غیر معمولی عید تھی کہ دنیا میں کہیں عید کی نماز پر اتنے بوسنین اکٹھے نہیں ہوئے تھے جتنے اسلام آباد میں اکٹھے ہوئے اور ایک غیر معمولی روحانی لذت کا نظارہ تھا جب مختلف علاقوں سے آئے ہوئے بوسنین بسوں سے اترتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف بڑھتے تھے،ایک دوسرے سے ملتے تھے۔جماعت احمدیہ کے پیار سے متاثر ہو کر ان کے چہروں کی کیفیت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی اور وہاں بعض ایسے ایسے نظارے دیکھے گئے ہیں کہ جنہوں نے دیکھا ہے ان کی روحیں ہمیشہ کے لئے ان سے متائثر ہوگئی ہیں۔ایک بس سے ایک ماں اتری جس کا بچہ بوسنیا میں کھو گیا تھا اور وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ مر چکا ہے اور ایک دوسری بس سے وہی بچہ جو اس کے نزدیک کھویا گیا تھا وہ اتر رہا تھا۔وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف اس طرح لیکے ہیں کہ بیان کرنے والے بتاتے ہیں کہ ہم بیان نہیں کر سکتے کہ وہ کیا نظارہ تھا۔ماں بے اختیار بچے کے گلے سے لپٹی اور بچہ ماں کے گلے سے لپٹا اور روتے ہوئے اس طرح خوشی کے آنسو بہائے ہیں کہ دیکھنے والے بھی رونے لگ گئے لیکن ایک اور نظارہ ایسا تھا کہ دو بہنیں آپس میں ملیں اور بیان کرنے والے بتاتے ہیں کہ ان کا جو ملنے کا نظارہ تھاوہ تو ماں بیٹے کے نظارے سے بھی بڑھ گیا۔بڑی عمر کی ایک بہن تھی ایک چھوٹی عمر کی بہن اور بڑی عمر کی