خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد ۱۲ 264 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء پڑھنے والے سے اتنا راضی نہیں ہوا ہو گا۔تو میں تو خدا کی ناراضگی دینے کے لئے آتا ہوں۔میں کیا غلطی کر بیٹھا۔اب میں تمہیں جگانے کے لئے آیا ہوں تا کہ خدا دوبارہ تم سے اتنا راضی نہ ہو جائے۔اب اسے ایک حکایت کہہ لیں یا کسی شخص کی سوچی ہوئی ایسی تدبیر ہے جس سے نمازوں کی طرف توجہ دلانے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس کے اندر حقیقت ہے۔وہ شخص جس کا ضمیر نماز میں اٹک چکا ہو، نمازی بن چکا ہو اس سے جب بھی نماز میں غفلت ہوتی ہے اس کو شدید کچوکے ملتے ہیں اور اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ اس تکلیف کے نتیجہ میں گناہ کی بجائے اس کو ثواب ملتے ہیں اور اگلی نمازوں کے لئے مزید طاقت نصیب ہوتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے کتنی ہی بار جہاد میں ، غزوات میں حصہ لیا اور بڑے بڑے دکھ اٹھائے ، بڑی تکلیفیں اٹھائیں لیکن کسی تکلیف کا، کسی دکھ کا کوئی شکوہ آپ کے ہاں نہیں ملتا۔سوائے ایک دفعہ جنگ احزاب کے موقع پر جبکہ دشمن نے ایک دن اتنا مصروف رکھا کہ اپنے وقت پر نمازیں نہ پڑھی جاسکیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے عشاء کے وقت پانچوں نمازیں اکٹھی پڑھائیں تو اس وقت بڑی حسرت سے کہا کہ ان لوگوں پر لعنت ہو جنہوں نے ہمیں نمازوں سے محروم کر دیا۔لعنت کے لفظ بولے یا تف کے کہے یا ویسے ہی اظہار افسوس کیا مجھے قطعی طور پر یاد نہیں لیکن یہ پتہ ہے کہ روایت کرنے والے بتاتے ہیں کہ بے حد دکھ کے ساتھ آپ نے ان کلمات کو ادا فرمایا کہ آج اکٹھی نمازیں قضا کرنی پڑی ہیں۔یعنی وقت سے الگ پڑھنی پڑی ہیں تو ایسی نمازیں جو اس دکھ کے ساتھ قضا کی جاتی ہیں اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ ان کا ثواب ان نمازوں سے بہت زیادہ ہے جن کو انسان رسمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ کے حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ یہ کہ خندق کھود نے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوۃ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ تفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہو گئی تھیں۔چار نمازیں تو خود شرع کی رو سے جمع ہوسکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر۔اور مغرب اور عشاء۔ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی کر کے پڑھی گئی تھیں۔لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو رد کر دیتی ہیں اور صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی (نور القرآن ۲ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه :۳۹۰)