خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد ۱۲ 260 ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے خطبه جمعه ۲ راپریل ۱۹۹۳ء تو سوچ ہی رہے تھے کہ اب اس کے بعد کیا کہوں سب سے بڑی بات تو کہہ دی کہ ”ہراک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے۔پھر کیا باقی رہا تب الہام ہوا اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اور کس شان کے ساتھ مضمون مکمل ہو گیا۔جڑ تو ہے مگر اس جڑ کو باقی رکھنا تمہارا کام ہے۔اگر اس جڑ کو باقی رکھو گے تو سب کچھ باقی رہے گا۔پس اگر نظام شوری کو باقی رکھنا ہے، اگر نظام خلافت کو باقی رکھنا ہے تو تقویٰ کی جڑ کو باقی رکھیں اور یہ پیغام اپنے سب بھائیوں کو دیں۔پہلے تو میں کہا کرتا تھا کہ جب واپس جائیں تو میری طرف سے یہ پیغام پہنچائیں لیکن اب تو میں سب کو مخاطب ہو کر خود کہہ رہا ہوں کہ جو میں شوریٰ کو کہہ رہا ہوں ،تمہیں بھی کہ رہا ہوں تم میں سے ہر ایک سے مخاطب ہوں۔اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ لو اور اپنے ہر انتخاب سے غیر اللہ کو خارج کردو، اپنی چودراہٹوں کو خارج کر دو، اپنی دوستیوں کو خارج کر دو، اپنی دشمنیوں کو خارج کر دو، اپنے تعلقات کو خارج کردو۔ایک ہی تعلق قائم رکھو اور وہ اللہ سے تمہارا تعلق ہے۔تقویٰ کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتخاب کرو تو میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ قیامت تک یہ جماعت مر نہیں سکے گی، بڑھتی چلی جائے گی اور بڑھتی چلی جائے گی۔پس مجلس شوری کی جان تقویٰ میں ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ مجلس شوری کا انتخاب کرنے والوں نے تقویٰ ہی سے کام لیا ہوگا اور اگر کوئی کمی رہ گئی ہوگی تو دعاؤں نے کمی پوری کر دی ہوگی۔پس آئندہ بھی دنیا بھر میں جہاں بھی جماعت اس پیغام کوسن رہی ہے وہ یا درکھیں کہ اپنے ہر انتخاب کا آغاز دعا سے کیا کریں اور دعا میں یہ بات خصوصیت سے پیش نظر رکھیں کہ ہم خدا کی پسند کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔اس واضح پیغام کے ساتھ جو انسان اپنے نفس کو دیتا ہے انسان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔جانے سے پہلے انسان سوچ رہا ہوتا ہے کہ فلاں بھی میرا دوست ہے، فلاں بھی ہے ،فلاں نے غالباً فلاں کو صدر بنانے کی کوشش کرنی ہے اور وہ اچھا آدمی نہیں ہے۔ہم سمجھتے ہیں فلاں اچھا ہوگا، تقویٰ کے لباس پہنائے ہوتے ہیں اپنی نیتوں کو مگر بعض دفعہ بودے اور گندے لباس ہوتے ہیں۔نام تقویٰ کا لباس ہوتا ہے تو اس قسم کی سوچیں سوچ کر لوگ انتخاب میں پہنچا کرتے ہیں۔وہاں جب دعا شروع ہو تو ایک دم انسان اپنے آپ کو یاد کرائے کہ میری پسند کی کیا