خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 259
خطبات طاہر جلد ۱۲ 259 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء تو تقویٰ کی حرکت اوپر سے نیچے کی طرف ہے نبوت سے تقویٰ اترتا ہے اور نیچے تک تقویٰ کا رس گھلتا چلا جاتا ہے۔تقویٰ کا پانی جڑوں تک پہنچ کر ان میں سرایت کر جاتا ہے۔پھر ان سے جونشو ونما اٹھتی ہے وہ مبنی بر تقویٰ ہوا کرتی ہے اور اس جماعت کے جو نمائندگان پھر آخر پر آکر آئندہ کبھی خلافت کا انتخاب کرتے ہیں تو ان کا انتخاب بلا شبہ اللہ کا انتخاب ہوتا ہے۔یہ معنی ہیں ورنہ محض دعوؤں میں تو کوئی حقیقت نہیں ہم دنیا کو کہتے رہیں کہ خلافت کا انتخاب خدا کا انتخاب ہے ان کی سمجھ میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی جب تک اس طریق سے ان پر ثابت نہ کیا جائے اور یہ ایک ایسی واضح کھلی ہوئی حقیقت ہے جو قابل فہم ہے اگر نبوت سے تقویٰ نبوت کے ساتھیوں میں سرایت کر گیا ہے اور انہوں نے انتخاب کیا ہے اور اگر اس تقویٰ کی حفاظت کی گئی ہے اور نسلاً بعد نسل یہ تقویٰ قائم رکھا گیا ہے تو لازماًہر انتخاب خدا کا انتخاب ہوگا۔صرف خلافت ہی کا نہیں امارت کا انتخاب بھی خدا کا انتخاب ہوگا۔صدارت کا انتخاب بھی خدا کا انتخاب ہوگا۔زعامت کا انتخاب بھی خدا کا انتخاب ہوگا۔اس ساری مجموعی صورت حال کا نام خلافت ہے اور اس کی زندگی تقویٰ میں ہے۔پس مجلس شوری کو آپ نے زندہ رکھنا ہے اور قائم اور دائم رکھنا ہے تو اس کے تقویٰ کی حفاظت کریں اور اس کے تقویٰ کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان جڑوں کی سطح پر نظر رکھیں جہاں سے تقوی کے پودے نے نشو و نما پانی ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تقویٰ پر جو یہ شعر ہے: ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے (درثمین:۴۹) یہی مضمون ہے جو میں خوب کھول کر آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں۔جہاں تک مجھے یاد ہے پہلا مصرعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا مصرعہ تھا۔جس طرح بعض دفعہ ہوتا ہے کہ ایک شاعر ایک مصرعہ کہہ کر کچھ اٹک سا جاتا ہے اس کی شان کا۔بعینہ اس کا ہم پلہ مصرعہ بعد میں اس کے ذہن میں نہیں آرہا ہوتا اور اس وقت پھر بعض دفعہ دوسرے شعرا ایک اور مصرعہ مہیا کر کے اس کے شعر میں نصف کے حصہ دار بن جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو اتنا اچھا مصرعہ دے دیتے ہیں گویا سارا شعر ہی ان کا ہوگیا اللہ تعالیٰ بھی بعض دفعہ ایسے ہی پیار کا مظاہرہ کرتا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ مصرعہ کہا