خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 22

خطبات طاہر جلد ۱۲ 22 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ء اب یہ معلوم ہو رہا ہے اور یہ صرف پاکستان کا ہی حال نہیں بلکہ باقی جماعتوں سے بھی یہی اطلاع مل رہی ہے کہ وہ احمدی جو بہت سست تھے جو کبھی جمعوں میں ہی نہیں آتے تھے جو کبھی دوسری مجالس میں شریک نہیں ہوتے تھے ان کے لئے بھی یہ بالواسطہ سننے کا مگر اس طرح سننے کا جو یہ ایک نیا طریق ہے کہ گویا براہ راست ہی سن رہے ہیں اتنا جاذب نظر ہے، اتنا دلکشی والا ہے کہ محض شوق کی خاطر لوگ آجاتے ہیں اور جو معین اندازہ ملا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ بعض جگہ جمعہ میں اگر دس ہزار شامل تھے یعنی زیادہ سے زیادہ اتنے شامل ہونے والے تھے تو اتنے سست پیچھے پڑے ہوئے بھی تھے کہ جب انہوں نے ایک پروگرام کی گفتی کروائی ہے تو اس پروگرام میں ۲۳ ہزار تھے۔ پس خوشی کی بات یہ ہے کہ جو اس میں شامل ہوتے ہیں وہ پھر جمعہ میں بھی آنے لگ جاتے ہیں اور ان کی توجہ نمازوں کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ کثرت سے ایسے خطوط مل رہے ہیں کہ ہم ویسے ٹھیک ٹھاک تھے مگر نمازوں میں سستی تھی ، بعضوں نے لکھا ہے کہ ہم نماز پڑھتے تو تھے لیکن جمع کر کے اور اب آپ سے جب ان موضوعات پر براہ راست باتیں سنی ہیں تو خدا کے فضل سے ہم نے قطعی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے ( یعنی سارے گھر کی طرف سے یہ پیغام تھا کہ میں ، میری بیوی ، میرے بچے ہم سب مل کر یہ فیصلہ کر چکے ہیں ) کہ اب آئندہ با قاعدہ اہتمام سے نماز کو پڑھا جائے گا وقت پر پڑھا جائے گا بلکہ گھر میں بھی با جماعت نماز پڑھی جائے گی۔ تو یہ سارے فوائد ہیں جن کی طرف پہلے جب پروگرام شروع ہوا ہے تو اتنی نظر نہیں تھی میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ یہ اللہ کی غیر معمولی تقدیر ہے جو جماعت کوترقیات کے ایک نئے عظیم الشان دور میں داخل کر رہی ہے۔ ایک صاحب نے یہ لکھا کہ جب ہم یہ سن رہے تھے تو مجھے آپ کا وہ شعر یاد آیا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا، پھیلتی جائے گی شش جہت میں صدا تیری آواز اے دشمن بدنوا ! دو قدم دور دوتین پل جائے گی ( کلام طاہر : ۱۴) اس نے لکھا کہ اب میں دیکھ رہا ہوں کہ ساری دنیا میں یہ آواز پھیل رہی ہے اس پر مجھے یہ خیال آیا کہ جو بظاہر اتفاقی باتیں ہوتی ہیں ان میں جب خدا تعالیٰ اپنی تقدیر ڈالتا ہے تو الفاظ درست ہو جایا کرتے ہیں عام طور پر چہار دانگ عالم میں یا ساری دنیا میں چاروں طرف کے محاورے استعمال