خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 22
خطبات طاہر جلد ۱۲ 22 22 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء اب یہ معلوم ہو رہا ہے اور یہ صرف پاکستان کا ہی حال نہیں بلکہ باقی جماعتوں سے بھی یہی اطلاع مل رہی ہے کہ وہ احمدی جو بہت ست تھے جو کبھی جمعوں میں ہی نہیں آتے تھے جو کبھی دوسری مجالس میں شریک نہیں ہوتے تھے ان کے لئے بھی یہ بالواسطہ سنے کا مگر اس طرح سننے کا جو یہ ایک نیا طریق ہے کہ گویا براہ راست ہی سن رہے ہیں اتنا جاذب نظر ہے، اتنا دلکشی والا ہے کہ محض شوق کی خاطر لوگ آجاتے ہیں اور جو معین اندازہ ملا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ بعض جگہ جمعہ میں اگر دس ہزار شامل تھے یعنی زیادہ سے زیادہ اتنے شامل ہونے والے تھے تو اتنے سست پیچھے پڑے ہوئے بھی تھے کہ جب انہوں نے ایک پروگرام کی گنتی کروائی ہے تو اس پروگرام میں ۲۳ ہزار تھے۔پس خوشی کی بات یہ ہے کہ جو اس میں شامل ہوتے ہیں وہ پھر جمعہ میں بھی آنے لگ جاتے ہیں اور ان کی توجہ نمازوں کی طرف بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ کثرت سے ایسے خطوط مل رہے ہیں کہ ہم ویسے ٹھیک ٹھاک تھے مگر نمازوں میں سستی تھی ، بعضوں نے لکھا ہے کہ ہم نماز پڑھتے تو تھے لیکن جمع کر کے اور اب آپ سے جب ان موضوعات پر براہ راست باتیں سنی ہیں تو خدا کے فضل سے ہم نے قطعی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے (یعنی سارے گھر کی طرف سے یہ پیغام تھا کہ میں، میری بیوی، میرے بچے ہم سب مل کر یہ فیصلہ کر چکے ہیں ) کہ اب آئندہ با قاعدہ اہتمام سے نماز کو پڑھا جائے گا وقت پر پڑھا جائے گا بلکہ گھر میں بھی باجماعت نماز پڑھی جائے گی۔تو یہ سارے فوائد ہیں جن کی طرف پہلے جب پروگرام شروع ہوا ہے تو اتنی نظر نہیں تھی میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ یہ اللہ کی غیر معمولی تقدیر ہے جو جماعت کو ترقیات کے ایک نئے عظیم الشان دور میں داخل کر رہی ہے۔ایک صاحب نے یہ لکھا کہ جب ہم یہ سن رہے تھے تو مجھے آپ کا وہ شعر یاد آیا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا، پھیلتی جائے گی شش جہت میں صدا تیری آواز اے دشمن بد نوا ! دو قدم دور دوتین پل جائے گی (کلام طاہر ۱۴) اس نے لکھا کہ اب میں دیکھ رہا ہوں کہ ساری دنیا میں یہ آواز پھیل رہی ہے اس پر مجھے یہ خیال آیا کہ جو بظاہر اتفاقی باتیں ہوتی ہیں ان میں جب خدا تعالیٰ اپنی تقدیر ڈالتا ہے تو الفاظ درست ہو جایا کرتے ہیں عام طور پر چہار دانگ عالم میں یا ساری دنیا میں چاروں طرف کے محاورےاستعمال