خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 255

خطبات طاہر جلد ۱۲ 255 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء ہوتی ہے۔اگر جماعت تقویٰ سے عاری ہو تو خلافت اپنی ذات میں اکیلی لمبا عرصہ تقویٰ کی باریک راہوں پر نہیں چل سکتی کیونکہ جب غیر متقیوں سے واسطے پڑتے ہیں تو لیڈرشپ برباد ہو جایا کرتی ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جماعت غیر متقی ہو اور خلافت کے تقویٰ کی لمبے عرصے تک حفاظت کی جاسکتی ہو۔ایک عرصہ تک تو انفرادی طور پر ہو سکتی ہے لیکن تقویٰ کی حفاظت خلافت کے نظام میں نہیں ہوسکتی کیونکہ خلافت ایک شخص کا نام نہیں ہے بلکہ خلافت ایک نظام ہے۔پس جب میں کہتا ہوں کہ خلافت میں تقویٰ کی حفاظت نہیں ہو سکتی تو مراد یہ ہے کہ خلیفہ خواہ متقی ہی رہے مگر وہ نظام جو جماعت کے تقویٰ کا آئینہ دار ہے، وہ نظام خلافت ہے، وہ گندا ہو جائے گا اور اس کے نتیجہ میں جماعت کی صحت پر بہت برا اثر پڑے گا۔یہی حال مجلس شوری کا ہے۔پس اس مضمون کو آپ کے سامنے مزید کھول کر رکھنے کے لئے میں نے اس آیت کریمہ کا سہارا لیا ہے۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ القُكُمُ مناصب کا ایک تعلق عزت سے بھی ہوا کرتا ہے لیکن قرآن کریم نے عزت کا جو نظریہ پیش فرمایا ہے اس میں عزت کو مناصب میں نہیں رکھا بلکہ تقویٰ میں رکھ دیا ہے یعنی منصب تب تک عزت کے لائق ہے جب تک وہ تقویٰ کے نور سے بھرا ہوا ہو منصب جب تقویٰ سے خالی ہو جائے تو عزت سے خالی ہو جاتا ہے۔فرمایا تمہاری عزت کے معیار جو کچھ بھی ہوں لیکن خدا کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے اور اس مضمون میں ایک یہ بات بھی بیان فرما دی کہ وہ لوگ جو مناصب پر فائز نہیں ہوتے وہ بھی کسی گھاٹے میں نہیں۔مناصب کے نتیجہ میں انسان کو خدمت کا زیادہ موقع ملتا ہے لیکن خدا کے ہاں عزت کا مقام پانے کے لئے منصب ضروری نہیں تقویٰ ضروری ہے۔پس اگر منصب تقویٰ سے خالی ہوگا تو اللہ کے ہاں وہ منصب عزت سے خالی ہو جائے گا اگر منصب تقویٰ سے بھرا ہوا ہو گا تو وہ منصب بھی عزت کے لائق اور وہ تمام افراد جماعت جو اپنی اپنی جگہ بغیر مناصب کے صاحب تقویٰ ہیں وہ بھی خدا کے حضور عزت کا مقام پائیں گے۔یہ نکتہ اس لئے بہت غور سے سننا اور سمجھنا چاہئے کہ اس کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں ہمارے انتخابی نظام میں فتور واقع ہو جاتا ہے۔جب مجلس شوری کے ممبروں کا انتخاب ہوتا ہے، جب عہد یداروں کا انتخاب ہوتا ہے اس وقت اگر اس دائی زندگی کے اس مرکزی نقطہ پر نظر نہ ہو تو اس کے بداثرات