خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 254

خطبات طاہر جلد ۱۲ 254 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء کیونکہ وہاں مجلس شوری کا وقت ختم ہو چکا ہے اور مختلف سب کمیٹیاں بن چکی ہیں اور اب وہ اپنے اپنے مقامات پر جا کر انشاء اللہ کل کی کارروائی کے لئے غور و خوض شروع کریں گے۔میں نے چونکہ تحریری طور پر اپنا افتتاحی پیغام بھجوا دیا تھا اس لئے خیال نہیں تھا کہ مجلس شوریٰ سے براہ راست مخاطب ہوں لیکن ناظر صاحب اعلیٰ نے بہت زور کے ساتھ یہ تحریک کی ہے کہ مجلس شوری کے ممبران کی یہ خواہش ہے کہ آپ آج خطبہ میں ہمیں براہ راست بھی مخاطب ہوں۔پس اس غرض سے میں نے ان کو نصیحت کرنے کے لئے اس آیت کا انتخاب کیا ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مجلس شوری جماعت کا ایک بہت ہی اہم نظام ہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خلافت کے بعد سب سے اہم نظام شوریٰ کا نظام ہے اور شوریٰ کے نظام کے ساتھ جماعت کی زندگی وابستہ ہے۔پس ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ خلافت میں اور شوریٰ میں مشترکہ طور پر جماعت احمدیہ کی جان ہے اور جماعت احمدیہ کی جان اگر خلافت اور شوریٰ میں ہے تو خلافت اور شوریٰ کی جان تقویٰ میں ہے کیونکہ خلافت تقویٰ کے بغیر بے معنی اور بے حقیقت ہے اور مجلس شوریٰ بھی تقوی کے بغیر محض ایک قالب ہے، ایک جسم ہے جس میں کوئی روح نہیں ہے ان دو باتوں کو اگر مجلس شوری کے ممبران پیش نظر رکھیں اور جماعت احمدیہ کے افراد کل دنیا میں ان کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ پر کبھی موت واقع نہیں ہوسکتی۔خلیفہ وقت میں احمدیت کی جان میں نے نہیں کہا۔خلافت احمدیہ میں احمدیت کی جان ہے اور مجلس شوری میں جان ہے نہ کہ ان ممبران میں جو آج وہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ان دو باتوں کو آپ مناسب طور پر لیں اور یہ جو منصب ہیں ان میں اگر چہ بہت نقدس پایا جاتا ہے لیکن اس تقدس کا جماعت کے تقویٰ کے ساتھ ایک براہ راست رشتہ ہے۔خلیفہ وقت کا تقومی ذاتی بھی ہوتا ہے لیکن وہ جماعت جو اسے منتخب کرتی ہے اس کے تقویٰ کا خلیفہ وقت کی ذات سے بہت گہرا تعلق ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے ہمیں یہ نصیحت فرمائی کہ یہ دعا کیا کرو کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ( الفرقان: ۷۵) اے ہمارے رب! ہمیں متقیوں کا امام بنانا کیونکہ غیر متقیوں کی امامت اگر متقی بھی ہو تو تب بھی بے جان رہتی ہے کیونکہ جس جسم سے دماغ نے یا دل نے کام لینا ہو اس جسم میں بھی تو صلاحیت ہونی چاہئے اور جسم کی صلاحیت ، دماغ اور دل دونوں پر اثر انداز ہورہی