خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 21

خطبات طاہر جلد ۱۲ 21 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے حیرت سے انسان آج کی دنیا کی سائنس کا منہ تکتارہ جاتا ہے کہ اس نے انسان کے لئے کیسی کیسی سہولتیں مہیا کر دی ہیں۔زمبابوے سے خط ملتا ہے، نائیجیریا سے خط ملتا ہے، مشرق بعید سے خط ملتے ہیں دور دراز کے علاقوں سے خطوط ملتے ہیں اور وہ سب یہ بیان کر رہے ہیں کہ ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ ہمارے سامنے کھڑے ہوں اور ہم اسی مجلس میں بیٹھے ہوں یہ پورے کا پورا احساس منتقل ہو جانا یہ نہ کیسٹ کے ذریعہ ممکن ہے، نہ وڈیو کے ذریعہ ممکن ہے ویڈیو میں بھی اگر چہ تصویر دکھائی دیتی ہے مگر کوئی زندہ تاثرات نہیں پہنچتے ، ویڈیو ایک قسم کی تصویر ہے لیکن براہِ راست ٹیلی ویژن کے ذریعہ پیغام اور تصویر جب پہنچتے ہیں تو اس کے ساتھ زندگی بھی پہنچ رہی ہوتی ہے۔انسان اپنے آپ کو اس مجلس کا حصہ محسوس کرتا ہے اسی طرح اس کا دل دھڑکتا ہے یہ کیفیات سب دنیا سے مل رہی ہیں اور ایک اور خوشکن بات یہ کہ بہت سے غیر مسلم بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اب ہمارے خطبات میں شامل ہونے لگ گئے ہیں اور دوسری تقاریب میں بھی براہ راست ٹیلی ویژن سے استفادہ کر رہے ہیں۔ابھی دو دن پہلے نائیجیریا کے ایک بہت تعلیم یافتہ صاحب حیثیت عیسائی دوست تشریف لائے تھے اور مجھے انہوں نے بتایا کہ میں نے آپ کا فلاں خطبہ بھی سنا تھا جو قادیان کے جلسہ سے پہلے کا تھا اور جلسے کے پہلے دن کی تقریب میں بھی شامل ہوا، آخری تقریب میں بھی شامل ہوا اور میرے دل پر اتنا اثر پڑا ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا کہ کیا کیفیت ہے ، وہ دعا کی غرض سے اور یہ بتانے کے لئے حاضر ہوئے تھے کہ میں مستقل تعلق رکھنا چاہتا ہوں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس طرح بات اور بھی پھیلتی چلی جارہی ہے، ایک سے سن کر دوسرا دیکھنے کا خواہش مند ہو جاتا ہے اور پھر اس سے تیسرا، اللہ کے فضل سے اب یہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا ایک بہت ہی عمدہ ذریعہ ثابت ہوگا۔پھر ربوہ میں اور ربوہ سے باہر پاکستان کی دوسری جماعتوں میں تربیت کے لحاظ سے مجھے بڑی سخت فکر رہتی تھی کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ کسی کی معرفت پیغام پہنچنا اور بات ہے اور پھر درمیان میں ایک مشکل یہ آپڑتی ہے کہ جو لوگ رفتہ رفتہ کمزور ہور ہے ہوں ، ڈھیلے پڑ رہے ہوں ان تک پیغام ویسے ہی نہیں پہنچتا یعنی وہ مسجد میں حاضر ہوں تو ان تک بات پہنچے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر عہد یدار ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹائے اور ہر کمزور جو گھر میں بیٹھ رہنے والا ہے اس تک آواز پہنچائے لیکن