خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد ۱۲ 243 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء خطوں کی کاپیاں بھیجی ہیں جو انہوں نے بعض سربراہوں کو لکھی ہیں اور وہ ایسی سخت زبان ہے کہ گویا وہی مقرر ہو گئے ہیں، مامور ہو گئے ہیں اللہ کی طرف سے کہ ہم تمہیں مٹانے کے لئے آگئے ہیں۔خبر دار جو تم نے اب آگے سے یہ حرکت کی۔نامناسب حرکت ہے۔فرعون سے زیادہ متکبر بادشاہ کون ہوسکتا ہے، فرعون سے زیادہ کون اس لائق تھا کہ اس کو تنبیہ کی جائے مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام کو نصیحت فرمائی تھی کہ قولِ لین سے کام لینا ، نرمی سے بات کرنا، اس کی یہ وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ فرعون سے ڈرتا تھا یا موسیٰ کو ڈراتا تھا۔اس لئے کہ انسانی فطرت ہے کہ جتنا بڑا مقام ہو اتنا زیادہ محتاج ہے کہ اس سے نرم بات کی جائے ورنہ وہ بات کو شروع میں ہی رد کر دیتا ہے۔فرعون کی بھلائی کی خاطر یہ حکم تھا کہ اگر تم یہ کہو گے کہ میں خدا کا نمائندہ آ گیا ہوں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں رہی۔مانتے ہو تو ما نو نہیں تو جاؤ جہنم میں تو وہ پھر جہنم میں ہی جائے گا۔جہنم میں تو بیچارے نے ویسے ہی جانا تھا مگر اس کو موقع نہیں ملنا چاہئے۔بات کی غلطی کے نتیجہ میں کوئی جہنم میں نہ جائے۔جائے تو اپنے قصور سے جائے ، تمہارے قصور سے نہ جائے۔یہ مضمون ہے جو حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو سمجھایا گیا تھا کہ نرمی سے بات کرنا۔کہیں بات کی وجہ سے ٹھو کر نہ کھا جائے تم پر نہ الزام آ جائے کہ تم بھی اس کی ٹھوکر میں شامل ہو گئے ہو۔پس احمدیوں کو چاہئے کہ حکمت سے کام لیں۔قرآنی تعلیم کے تابع میری باتوں کو سمجھا کریں اس سے باہر نکل کر اُن کے ترجمے نہ کیا کریں کیونکہ پھر وہ ان کی اپنی مرضی کی بات ہوگی میری نصیحت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔اب متفرق امور جو اس عرصہ میں مجھے بعض دوستوں نے لکھے ہیں پہلے میں اُن سے نصیحت کے ان خطبوں کا آغاز کرتا ہوں۔ایک خاتون نے لکھا ہے کہ ہمارے مردوں کے خلاف بھی چند باتیں کریں اور بعض باتیں ایسی لکھی ہیں جو یہاں پڑھ کر سنانی مناسب نہیں ہیں لیکن ہیں وہ واقعی قابلِ فکر باتیں۔معاشرے کو اچھا بنانے کے لئے ضروری ہے کہ گھر سکینت کا مرکز ہوں۔جہاں اپنا گھر سکینت کا مرکز نہ رہے، کسی اور کا گھر بن جائے اور باہر کی دنیا بن جائے۔گلیاں بن جائیں ،کلب بن جائیں، دوستوں کی مجلسیں بن جائیں وہاں معاشرے کا سارا نظام بگڑ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ گھر ٹوٹنے لگتے ہیں، آگے اولاد پر بہت برا اثر پڑتا ہے، بچے بداخلاق ہونے لگتے ہیں، اگلی نسلوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں رہتا۔اس لئے سکینت کا مرکز گھر ہی رہنا چاہئے۔عبید اللہ علیم صاحب کی