خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد ۱۲ 244 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء نظم کی طرح کہ اصل خزا نہ تو گھر میں ہے۔باقی سب تو تعلقات کے دائرے ہیں لیکن جو انسان گھر میں لوٹتا ہے اور گھر میں سکون پاتا ہے اس کی کوئی مثال باہر دکھائی نہیں دیتی۔یہ نظم حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو بہت پسند تھی۔جب کبھی کراچی تشریف لے جاتے تھے تو جن شعراء کو بلا کر ان کا کلام سنا کرتے تھے ان میں عبید اللہ علیم صاحب کو خاص مقام حاصل تھا اور برحق مقام دیا گیا تھا اور اس میں یہ نظم آپ کو بہت پسند تھی۔جہاں تک مجھے یاد ہے ہوسکتا ہے کہ میں غلطی کر رہا ہوں مگر مجھ پر یہی تاثر ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو یہ نظم بہت پسند تھی۔کم سے کم جب میں نے سنی تو مجھے تو بہت ہی پسند آئی اور اگر ہمارے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب مختلف احمدی رسالوں میں کا پیاں بھجوا دیں تو سب میں چھپ جائے گی کیونکہ اس خطبہ سے اس کا گہرا تعلق ہے۔سایہ وہی ہے جو خدا نے گھر میں بنا رکھا ہے اور اسی کو سکینت کی وجہ بتایا ہے۔پس اپنے گھر میں سکینت ڈھونڈیں اور بیوی میں سکینت ڈھونڈیں۔آپ کی بیوی آپ کے لئے سکینت کا سامان بنائی گئی ہے۔اگر اس کو چھوڑ کر غیروں کی طرف نظر ڈالیں گے، غیر گھروں میں جائیں گے اور وہیں آرام پائیں گے اور دیر میں گھر لوٹیں گے اور گھر آ کر جس طرح اپنے کپڑے اتار کر پھینکتے ہیں اسی طرح اپنے بیوی بچوں کو اتار پھینکا ہوگا تو پھر ایسا گھر کوئی سکینت والا گھر نہیں ہے اور ایسے معاشرے کی حفاظت اور اس کے امن کا کوئی انتظام ممکن نہیں ہے۔اس کی کوئی حفاظت نہیں ہوسکتی۔پس غیروں کو جو ہم نے نصیحت کرنی ہے اس سے پہلے اپنے آپ کو تو ضرور نصیحت کرنی چاہئے۔اگر ہم نے غیروں کے سامنے اچھے گھروں کا ماحول پیش نہ کیا تو اس دنیا کا سب سے بڑا عذاب یہی تو ہے کہ گھر ٹوٹ رہے ہیں ، بچوں اور ماں باپ کے رشتہ منقطع ہورہے ہیں بڑوں کے ادب اٹھ رہے ہیں اور رفتہ رفتہ ہر شخص فرد بنتا چلا جا رہا ہے۔جمعیت کا نظام منتشر ہورہا ہے۔پس اگر گھر منتشر ہو جائیں اور ہر شخص میں اس حد تک انفرادیت آ جائے کہ ایک دوسرے سے تعلقات محض خود غرضانہ تعلقات رہیں۔ایک دوسرے کوسکون پہنچانے کی تمنا نہ ہو بلکہ جو کچھ لینا ہے لو اور فارغ ہو جاؤ تو ایسا معاشرہ زندہ نہیں رہا کرتا اور آج کے انسانوں کو سب سے بڑی Threat ،سب سے بڑا خطرہ ٹوٹتے ہوئے گھروں سے ہے۔یورپ اور امریکہ نے تو اس کے ایسے خوفناک نظارے دیکھ لئے ہیں کہ وہاں اب یہ احساس مذہبی قدروں کے علاوہ بھی بڑے زور سے پیدا