خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد ۱۲ 241۔خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء گے۔اہل کتاب رفتہ رفتہ اس وجہ سے کہ انہوں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ نہیں جوڑا ان تمام خوبیوں سے محروم ہو جائیں گے جو آج آپ کی ذات بابرکات سے وابستہ کر دی گئی ہیں اور ہمیشہ کے لئے وابستہ کر دی گئی ہیں۔اس سردار کو قبول کرو گے تو ان خوبیوں کے حامل بنو گے اس سردار سے تعلق توڑو گے۔تو ساری خوبیوں سے تعلق توڑ لو گے اچانک کتنی حسرت کا اظہار ہے۔وَلَوْ مَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاَكْثَرُهُمُ الفُسِقُونَ یہ بات مزید اور کھول دی کہ ٹھیک ہے ان میں مومن بھی ہیں۔اچھے لوگ ہیں لیکن أَكْثَرُهُمُ الفُسِقُونَ اکثر ان میں فاسق ہیں یعنی فاسق ہوتے چلے جائیں گے۔یہ ان کا انجام ہے کیونکہ تعلق نہیں باندھا، محمد رسول اللہ ﷺ سے تعلق نہیں باندھا اس لئے ان کا فاسق بنا تو وقت کا ایک تقاضا ہے جو بہر حال پورا ہو کر رہے گا۔یہ سورہ آل عمران کی وہ آیت نمبرااا ہے جس پر بنار کھتے ہوئے میں چند تربیتی خطبے انشاء اللہ دوں گا اور آج میں بعض متفرق باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے ایک غلطی کا ازالہ کرنا ہے۔جمعۃ الوداع پر میں نے حضرت ابوامامہ باہلی صلى الله رضی اللہ عنہ کی جو روایت پیش کی تھی اس میں اگر چہ لکھا تو یہی ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر یہ نصیحت فرمائی لیکن اس وقت جلدی میں جو نظر پڑی ہے تو وہ جمعتہ الوداع پڑھا گیا ہے اور اسی لحاظ سے میں نے یہ بات کی تھی کہ اس حوالے سے میں جمعۃ الوداع پر آج آپ کے سامنے یہ مضمون رکھتا ہوں۔لیکن یہ غلطی اس موقع پر نہیں ہوئی۔پہلے بھی جب اس حدیث پر نظر پڑی تھی تو جمعۃ الوداع پڑھا گیا تھا تو شاید اللہ کے ہاں یہ غلطی مقدر تھی کہ یہ غلطی ہو تو میں اس مضمون کو جمعۃ الوداع کے لئے چن لوں تو فائدہ تو پہنچ گیا مگر غلطی ملنی چاہئے۔پس لوگ درستی کر لیں میں نے جو یہ نصیحت بیان کی تھی کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے نماز اور عبادتوں کے متعلق یہ فرمایا تھا۔یہ حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا۔وہ بھی وداع کا ایک رنگ تھا اور عام جمعتہ الوداع سے بہت زیادہ شدت کے ساتھ تا ثیر رکھنے والا کلام تھا کیونکہ حضور اکرم یہ اپنے غلاموں سے جدا ہونے والے تھے اس لئے وہ معنوں کے لحاظ سے اور بھی زیادہ پُر تاثیر کلام تھا۔پس معنوی لحاظ سے تو کوئی غلطی نہیں ہوئی لیکن روایت کی درستی بہر حال ضروری ہے۔دوسرے مجھے فیصل آباد سے توجہ دلائی گئی ہے کہ اسی نصیحت کے آخر پر حضور اکرم ﷺ نے صد الله