خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد ۱۲ 237 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء کر کے ان کو ساتھ لیں اور ان کو آگے بڑھائیں کیونکہ بہر حال جو بوجھ مردوں نے اٹھانے ہیں وہ عورتوں کی طاقت سے بالا ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عورتوں کے لئے فرائض کی ادا ئیگی میں نرمی رکھی ہوئی ہے۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُنتُم خَيْرَ أُمَّةِ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اے امتِ محمدیہ تم بہترین امت ہو ان تمام امتوں میں سے سب سے اچھی، جو کبھی بھی پیدا نہیں کی گئی تھی لیکن اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم لوگوں کی خاطر پیدا کئے گئے ہولوگوں کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو اس مضمون پر میں پہلے بھی روشنی ڈال چکا ہوں۔بہت ہی حیرت انگیز بیان ہے جو کسی دوسری جگہ آپ کو اس کی مثال نظر نہیں آئے گی۔اتنا پاکیزہ اور اتنا عمدہ، اتنا وسیع مضامین کو سمیٹے ہوئے کلام چل رہا ہے۔حقیقہ کوزے میں دریا بند دکھائی دیتا ہے۔صلى الله كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ تم بہترین امت ہو۔محمد رسول اللہ ہے جو سب سے بلند پایہ، سب سے بلند تر ، سب نبیوں میں افضل ہیں تو اُن کی طرف منسوب ہوتے ہو تم بہترین امت ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا کہ ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے (درین صفحہ :۱۷) یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اُس کی بنیاد بھی اسی آیت کریمہ میں ہے۔وہ خَيْرَ اُمَّةِ اپنی ذات میں مکمل جملہ ہے اور اتنا مکمل ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ کی تمام سیرت کا مضمون ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔اُدھر دیکھو تم کس کی طرف منسوب ہو رہے ہو؟ اُس کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے تم نے خیر امت کا نام پایا ہے کیونکہ وہ خیر رسل ہے تو تم وہ ہو۔اس لئے اپنے خیالات، اپنے اعتقادات، اپنے طرز گفتگو، اپنی بول چال، اپنے اٹھنے بیٹھنے، رہن سہن اور اخلاق پر نظر رکھنا کہ تم کون ہو اور کس کی طرف منسوب ہوتے ہو؟ یہ تو ویسے ہی ہے کہ کسی اچھے خاندان کے بچے سے غلطی ہو جائے تو کہتے ہیں کہ تم کس کے بیٹے ہو اس جملے میں غیرت کا بڑا کچو کہ ہے۔جس شخص سے غلطی ہوئی ہے وہ یہ بات سن کر شرم سے کٹ مرتا ہے۔امت محمدیہ کو خیر امت کہہ کر اگر بات یہیں پر بھی ختم کر دی جاتی تو مضمون مکمل تھا بلکہ ایسا مضمون تھا کہ