خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد ۱۲ 236 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء ہوں جن کا تربیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ساری جماعت کی تربیت اس رنگ میں ہو جس رنگ میں حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کی ذات کے ساتھ آپ کے قدموں کے ساتھ منسوب ہونے اور چمٹ رہنے کے تقاضے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پہلو سے جو بلند تو قعات جماعت سے رکھی ہیں ان کے متعلق جیسا کہ میں بعض اقتباسات آپ کے سامنے رکھوں گا، خود فرمایا کہ ابھی تو بیج بونے کے وقت ہیں، ابھی ان امور تک پہنچنے میں وقت لگیں گے۔محنت درکار ہوگی اور جماعت کو جو میں دیکھنا چاہتا ہوں اس سلسلہ میں لمبی محنتیں درکار ہیں تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے مگر ان لمبی محنتوں کا پہلے سے زیادہ ولولے اور جوش کے ساتھ ، عزم نو کے ساتھ صلى الله۔ان کا آغاز کرنا چاہئے۔آغا ز تو اس وقت بھی ہو چکا تھا جب حضرت اقدس محمد رسول الله له تشریف لائے تھے بلکہ اس آغاز کا آغاز حضرت آدم کے زمانے میں ہو چکا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے از سر نو شروع کیا اسی لئے آپ کے متعلق آتا ہے مسلماں را مسلماں باز کردند کہ آپ کا آنا ایسا ہی ہو گا جیسے مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان بنانا ہو۔تو احمد یوں پر بھی بیچ میں غفلت کی کچھ حالتیں طاری ہوئیں اور کچھ پاکستان سے ہجرت کے نتیجہ میں ایک قسم کی سستی اور جمود کا احساس ہے جو خطوں سے محسوس ہوتا ہے۔اس لحاظ سے میں نے نئے ولولے، نئے عزم کے ساتھ اس محنت کے از سر نو آغاز کا ذکر کیا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ خطبات میں شامل ہونے والوں کی حاضری کو برقرار رکھا جائے اور بڑھایا جائے۔اس ضمن میں میں لجنہ اماءاللہ ربوہ کا خاص طور پر ممنون ہوں کہ انہوں نے بہت محنت کی ہے۔نتیجہ باقی جگہوں سے جو رپورٹیں آتی ہیں وہاں مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت زیادہ ہے لیکن ربوہ میں گزشتہ رپورٹوں سے مسلسل پتا چل رہا ہے کہ خواتین زیادہ تعداد میں شامل ہو رہی ہیں اور اپنے مردوں کو پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔اس وقت پیچھے چھوڑ گئی ہیں لیکن آگے جا کر ساتھ لے کر چلنا ہے۔یہ ایسا فخر نہیں ہے کہ جس فخر کو برقرار رکھا جائے۔پیچھے چھوڑیں، پھر ہاتھ پکڑیں اور ساتھ لے کر آگے بڑھائیں اور ان کی غیرت کو کچو کے دیں اور کہیں کہ ہم عورتیں ہو کر جن پر جمعہ فرض بھی نہیں ہے جمعہ کا خطبہ سننے جارہی ہیں جو جمعہ کے مقابل پر کوئی فرضیت نہیں رکھتا اور تم مرد ہو کر گھروں میں چوڑیاں پہن کر بیٹھ گئے ہو۔اگر یہ بات ہے تو پھر بچے تم سنبھالو ہم باہر کے کام کرتی ہیں تو اس طرح کی باتیں