خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 235

خطبات طاہر جلد ۱۲ 235 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء خیر امت ہو کیونکہ خیر الرسل کے متبع ہو، اپنے گھروں کو جنت نشان ئیں اور گھروں میں داخل ہونے والی برائیوں پر نظر رکھیں۔( خطبه جمعه فرموده ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَلَوْ أَمَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ (ال عمران : 1) رمضانِ مبارک کی سرگرمیاں ختم ہوئیں اور عید کی گہما گبھی بھی ، اور آج شاید لوگ دنیا بھر میں عید منانے کے بعد کسل کا شکار ہو چکے ہوں۔کیونکہ عید منانے کے بعد سستی اور غفلت کا بھی کچھ تھوڑا سا دور آیا کرتا ہے۔کچھ لوگ شاید کھانے پینے میں بے احتیاطیاں کر جاتے ہیں، کچھ عید کی مصروفیتوں کی ذمہ داریوں سے تھک جاتے ہیں۔اس لئے مجھے ڈر ہے کہ آج شاید خطبہ میں بھی ویسی حاضری نہیں ہوگی جیسی کہ بالعموم رمضان مبارک میں ہو رہی تھی اور جو منتظم رپورٹیں بھیجتے ہیں میں ان کی کیفیات کو جانتا ہوں۔وہ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم رپورٹ میں کیا بہانہ بنائیں گے کہ کیوں آج حاضری کم ہے حالانکہ کسی بہانے کی ضرورت نہیں۔میں ان باتوں کو اچھا بھلا سمجھتا ہوں۔حالات میں اورنچ بیچ ہوتا رہتا ہے۔مزاج میں کبھی جوش آجاتا ہے۔کبھی مزاج مدھم پڑ جاتے ہیں لیکن مستقلاً اس مزاج کو قائم رکھنا ضروری ہے کیونکہ اب میں ایک ایسے خطبات کے دور میں داخل ہونا چاہتا