خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 231
خطبات طاہر جلد ۱۲ 231 خطبه جمعه ۱۹ مارچ ۱۹۹۳ء ہو۔ اتنا تو ہے کہ مجھے مان بیٹھے ہو، اتنا تو ہے کہ میرے ساتھ وابستگی میں فخر محسوس کرتے ہو۔ سنو دو ۔۔۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سیچ میچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ سو اپنی پنج وقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو ۔ ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یا درکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقوی سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے۔ جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہوگا۔ ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہو جیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔ سو خبردار رہو ایسا نہ ہو کہ ٹھو کر کھاؤ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔ اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پردے گا سو تم اس کو مت چھوڑو اور ضرور ہے کہ تم دکھ دئے جاؤ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جاؤ۔۔۔“ خصوصیت سے اہل پاکستان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کے مخاطب دکھائی دے رہے ہیں۔ ”۔۔۔ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جاؤ۔ سو اِن صورتوں سے تم دلگیر مت ہو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس کی راہ میں ثابت قدم ہو یا نہیں اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور نا کامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔۔۔“ کیسا پیارا کلام ہے۔ پیوند مت توڑو۔ اس میں سب پیوند آ جاتے ہیں۔ اللہ کی ذات سے