خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 228

خطبات طاہر جلد ۱۲ 228 خطبہ جمعہ ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء صلى الله صلى الله صلى الله کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ وہ آپ کے انتظار میں ہیں۔فرمایا میرے لئے طشت میں پانی رکھ دو۔پس اٹھ بیٹھے غسل کیا اور جانے لگے تو غشی کا دورہ پڑ گیا۔افاقہ آیا تو پھر فرمایا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ہم نے کہا نہیں یارسول اللہ وہ آپ کے انتظار میں ہیں۔لوگ مسجد میں رسول اللہ ﷺ کا عشاء کی نماز میں انتظار کر رہے تھے۔بالآخر آپ نے ابو بکر کو کہلا بھیجا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔چنانچہ قاصد اُن کے پاس گیا اور کہا رسول اللہ ﷺ آپ کو نماز پڑھانے کا حکم دیتے ہیں؟ ابوبکر نے کہا ، اور وہ بہت رقیق القلب تھے یعنی دل کے بہت نرم تھے۔عمر تم لوگوں کو نماز پڑھا دو۔عمر نے اُن سے کہا تم اس کے زیادہ مستحق ہو۔تب ابوبکر نے ان ایام میں نماز پڑھائی۔اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض میں افاقہ محسوس کیا۔آپ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر نماز ظہر کے لئے نکلے۔یعنی کچھ دن تک پھر اتنا زیادہ بخار نے غلبہ کیا کہ نماز کے لئے جانے کا ارادہ بھی نہ کر سکے لیکن جب بیماری نے ذرا مہلت دی تو حضور اکرم ہے اس حالت میں نماز کے لئے گئے کہ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر نماز ظہر کے لئے نکلے اور اُن میں سے ایک عباس تھے۔اُس وقت ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔جب آپ کو ابو بکر نے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے کہ آپ نے دیکھ لیا۔آپ نے اشارہ کیا۔پیچھے نہ ہیں۔پھر آپ نے فرمایا مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔چنانچہ ان دونوں نے آپ کو ابو بکر کے پہلو میں بٹھا دیا۔عبید اللہ کہتے ہیں کہ ابو بکر اس وقت اس طرح نماز پڑھنے لگے کہ وہ خود تو رسول اللہ یہ کی نماز صلى الله کی اقتداء کرتے تھے۔لوگ ابوبکر کی نماز کی اقتداء کرتے تھے۔رسول اللہ یہ بیٹھے ہوئے تھے۔بخاری کتاب الاذان ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ بیان ہوئے ہیں۔جب حضور اکرم ﷺ نے طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس کیا۔فخرج بين رجـلـيـن تـخـط رجلاه الارض ( بخاری کتاب الاذان حدیث نمبر : ۶۶۵) آپ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر نکلے اور میں اب بھی گویا آپ کو دیکھ رہی ہوں۔حضرت عائشہ فرما رہی ہیں کہ آپ کے پاؤں کو دیکھ رہی ہوں کہ مرض کے باعث درد کی شدت کی وجہ سے زمین پہ سکتے نہیں تھے اور گھسٹتے ہوئے آ رہے تھے۔اس حالت صلى الله میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی آخری بیماری میں نمازوں کا حق ادا فر مایا۔ایک اور حدیث صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب اہل العلم والفضل۔اس میں حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے پیروکار، خادم اور صحابی تھے۔وہ روایت کرتے